کراچی کے پانی کی فراہمی اور انفرا اسٹرکچر منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ
کراچی کی بڑھتی آبادی موثر واٹر مینجمنٹ کی متقاضی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
شفاف طرز حکمرانی اور اسٹریٹجک منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی ضروری ہے، وزیراعلیٰ سندھ
کراچی (علیم نواب خان سے ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ بولورما آنگابازار کے ساتھ اجلاس میں کراچی کے پانی کی فراہمی اور انفرااسٹرکچر منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی مؤثر واٹر مینجمنٹ سسٹم، شفاف طرزِ حکمرانی اور اسٹریٹجک منصوبوں کی بروقت تکمیل کی متقاضی ہے۔
اجلاس میں کراچی واٹر سپلائی اور انفرااسٹرکچر منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جن میں کے فور آگمینٹیشن، واٹر میٹرنگ، کچی آبادیوں میں شہری ترقیاتی کام اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو اینڈ ایس سی) میں ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کو مؤثر واٹر مینجمنٹ سسٹمز، شفاف حکمرانی اور اسٹریٹجک منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت ہے۔ حکومت سندھ تمام جاری منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
اجلاس میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) کے تحت عملدرآمد کے شیڈول، فنڈنگ ضروریات، خریداری کے عمل اور جاری سول ورک کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف اور چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ شریک ہوئے۔ ورلڈ بینک کے وفد میں منیجر آپریشنز گیلیئس جے ڈراگیلس، ریجنل پریکٹس ڈائریکٹر میسکی برہانے اور سینئر واٹر اسپیشلسٹ ٹزیانا اسمتھ شامل تھیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کے واٹر سپلائی نیٹ ورک کی بہتری، پانی کے ضیاع میں کمی اور جدید و پائیدار شہری آبی انفرااسٹرکچر کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی مؤثر واٹر مینجمنٹ سسٹمز، شفاف گورننس اور اسٹریٹجک منصوبوں کی بروقت تکمیل کی متقاضی ہے۔ حکومت سندھ تمام جاری منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنانے کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لینے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہر پندرہ روز بعد جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہوسکیں۔
وزیر بلدیات ناصر شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ 4 ہزار 333 صارفین کے میٹرز کی تنصیب کا منصوبہ حتمی شکل دے دی گئی ہے اور چند روز میں ورلڈ بینک کو ارسال کردیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ متفقہ شیڈول کے مطابق جون 2027 تک تمام صارفین کے میٹرز نصب کردیئے جائیں گے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ورلڈ بینک ٹیم کو بتایا کہ سسٹم میٹرز کے لیے درکار 212 چیمبرز میں سے 150 تعمیر کیے جاچکے ہیں جبکہ باقی چیمبرز کے مقامات کی نشاندہی نان ریونیو واٹر کنسلٹنسی ٹیم کرے گی جو پہلے ہی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
اجلاس میں کے فور آگمینٹیشن منصوبے اور خریداری کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ 10 مئی کو بڈنگ دستاویزات ورلڈ بینک کو ارسال کردی گئی تھیں جبکہ بینک کی جانب سے موصول ہونے والے تبصرے شامل کرکے نظرثانی شدہ دستاویزات دوبارہ جمع کرا دی گئی ہیں۔
کے فور آگمینٹیشن کے 2.7 کلومیٹر مشترکہ کوریڈور جزو پر وزیر بلدیات ناصر شاہ نے بتایا کہ 16 اپریل 2026 سے کام دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔ اس وقت 72 انچ مائلڈ اسٹیل پائپ لائن کی تنصیب جاری ہے جبکہ 96 انچ پائپ لائن پر کام ایس ایس جی سی کی گیس پائپ لائن کی منتقلی اور نیپا پل کی بحالی کے بعد شروع ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ کوریڈور منصوبہ اگست 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مراد علی شاہ نے محکمہ بلدیات اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ کے فور منصوبے کی پیش رفت میں حائل تمام انتظامی اور تکنیکی رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبہ کراچی کے مستقبل کے آبی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے اور اس میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں کے ڈبلیو اینڈ ایس سی میں بھرتیوں اور ادارہ جاتی بہتری پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈائریکٹر پروجیکٹ ڈیولپمنٹ، کمیونیکیشن اسپیشلسٹ، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اسپیشلسٹ اور ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ ریفارمز سمیت مختلف تکنیکی اور انتظامی عہدوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔
عیسیٰ نگری اور صوبا نگر میں شہری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے میئر کراچی نے بتایا کہ پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک کی تعمیر اور نالوں کی صفائی جاری ہے جبکہ عید کے بعد مین لائن سے پانی کے کنکشنز پر کام شروع ہوگا۔
صوبا نگر میں پیور بلاک ورک جاری ہے جبکہ شاہ فیصل پمپنگ اسٹیشن سے کلورینیشن یونٹ منتقل کیا جائے گا تاکہ پانی صاف کرنے کے نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔ مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ صوبا نگر منصوبہ جون 2026 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔
ورلڈ بینک کو یہ بھی بتایا گیا کہ کے فور آگمینٹیشن سے متعلق فزیبلٹی رپورٹس جائزے کے لیے پہلے ہی جمع کرائی جاچکی ہیں۔
اجلاس میں کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی ٹو کے تحت واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور کنسلٹنسی سروسز کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت پر بھی غور کیا گیا۔
مراد علی شاہ نے کراچی کے واٹر سیکٹر میں شفاف منصوبہ بندی، ادارہ جاتی اصلاحات اور پائیدار سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد ترقیاتی شراکت داروں کے مضبوط تعاون سے کراچی کے لیے جدید، قابلِ اعتماد اور مؤثر واٹر سپلائی نظام قائم کرنا ہے۔