کراچی کے شہریوں کو ٹریفک کے سنگین مسائل اور سفری مشکلات سے نجات دلانے کے لیے حکومتِ سندھ نے یونیورسٹی روڈ پر مکسڈ ٹریفک لین کو جلد از جلد کھولنے کا ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ سندھ کے سینیئر وزیر برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن کی زیرِ صدارت ریڈ لائن بی آر ٹی (Red Line BRT) منصوبے سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کی رفتار اور مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ، منصوبے کے ڈیزائن کنسلٹنٹس اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور جاری تعمیراتی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں سینیئر وزیر کو بتایا گیا کہ منصوبے کے مختلف سیکشنز پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور تمام متعلقہ پبلک سروس ادارے باہمی اشتراک اور مضبوط رابطے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر مکسڈ ٹریفک کے لیے مخصوص لین کو جلد کھولنے سے وہاں روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں اور طلبہ کو بدترین ٹریفک جام سے بڑی راحت ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، لہٰذا تمام اسٹیک ہولڈرز مقررہ ڈیڈ لائن کے اندر تعمیراتی کام مکمل کرنے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں ادا کریں۔
سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ کراچی کے عوام کو بین الاقوامی معیار کی جدید، محفوظ اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کی کامیاب تکمیل سے نہ صرف سڑکوں پر نجی گاڑیوں کا دباؤ کم ہوگا بلکہ شہر میں پائیدار اور جدید ترین پبلک ٹرانزٹ سسٹم کو مستقل بنیادوں پر فروغ ملے گا۔ ٹریفک ماہرین اور شہریوں نے مکسڈ ٹریفک لین کو جلد بحال کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ یونیورسٹی روڈ پر طویل عرصے سے جاری تعمیراتی کام کے باعث متبادل سڑکوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا تھا، جس میں اس فیصلے کے بعد نمایاں کمی آئے گی۔
