ڈی آئی جی ٹریفک ان ایکشن: جرمانے اتنے زیادہ کرینگے کہ لوگ قانون توڑنے سے پہلے سوچیں‌گے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) 16 جون 2026

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے جرمانے کی شرح اتنی زیادہ ہونی چاہیے کہ عام شہری قانون توڑنے سے خوف کھائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ٹریفک حادثات میں 30 فیصد کمی
ڈی آئی جی ٹریفک نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 30 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 445 حادثات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اس سال یہ تعداد کم ہو کر 308 رہ گئی ہے۔ اسی طرح ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد بھی 445 سے کم ہو کر 345 تک آ گئی ہے۔

بڑی گاڑیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال بڑی گاڑیوں کے 155 حادثات رونما ہوئے تھے، جبکہ رواں سال اب تک 75 حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 886 افراد زخمی ہوئے تھے، جس کے مقابلے میں رواں سال اب تک 569 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

ای ٹکٹنگ سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی کا کردار
پیر محمد شاہ نے بتایا کہ حکومتِ سندھ نے گزشتہ سال اکتوبر میں ‘ای ٹکٹنگ سسٹم’ کا نفاذ کیا تھا۔ اس نظام کے لیے مقامی سافٹ ویئر صرف 6 ماہ میں مکمل کیا گیا اور نوجوان افرادی قوت کو اس جدید نظام کے استعمال کی خصوصی تربیت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کیمرہ مانیٹرنگ اور ٹریفک فلو یونٹ سمیت ٹریفک ڈرون یونٹ کے قیام نے شہریوں کے رویوں اور مزاج میں مثبت تبدیلی لائی ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ لوگ خود سے سیٹ بیلٹ پہننے کو ترجیح دیتے ہیں، یہاں تک کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی اب مسافر کو سیٹ بیلٹ پہنائے بغیر گاڑی نہیں چلاتے۔

کم عمر ڈرائیونگ اور ہیلمٹ کے قوانین
ڈی آئی جی ٹریفک نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کم عمر بچوں کی جانب سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے پر کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل کا کم از کم چالان ڈھائی ہزار روپے ہے جو حکومتِ سندھ کی قانون سازی کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ ہیلمٹ پہننے کی عادت اپنا لیں تو انہیں کبھی چالان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں جرمانے اس لیے بھاری رکھے جاتے ہیں تاکہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

تجاوزات اور ٹریفک جام کا تدارک
ٹریفک جام کے مسائل پر بات کرتے ہوئے پیر محمد شاہ نے کہا کہ تجاوزات اکثر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔ اس سلسلے میں 34 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ٹریفک کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔ ان مقامات کو کلیئر کرانے کے لیے ٹریفک فلو یونٹ متحرک ہے جو سڑک پر غلط پارک کی گئی گاڑیوں کے خلاف کارروائی اور چالان کرنے کا مجاز ہے۔

ماضی کا نظام اور عزمِ نو
پیر محمد شاہ نے یاد دلایا کہ 1970 کی دہائی میں کراچی کے ٹریفک نظام کو پورے ملک کے لیے مثال سمجھا جاتا تھا، لیکن گزشتہ چار دہائیوں میں یہ مینجمنٹ سسٹم تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس نظام کو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں لانے کے لیے پرعزم ہیں، جسے 70 فیصد شہری پہلے ہی دل سے قبول کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے قانون کی پاسداری ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں