کراچی (کورٹ رپورٹر) 6 جولائی 2026
کراچی کی سٹی کورٹ میں سینئر سول جج شرقی کے روبرو کورنگی صنعتی ایریا میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت کے المناک معاملے پر ایک انتہائی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں جاں بحق نوجوان کی بیوہ نے ٹینکر مالک اور لاپرواہ ڈرائیور کے خلاف کروڑوں روپے کے معاوضے کا قانونی دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ عدالت نے بیوہ کی دائر کردہ درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
درخواست گزار خاتون کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ کے مطابق، یہ قانونی کارروائی ‘جان لیوا حادثات ایکٹ’ (Fatal Accidents Act) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، جس کے تحت ٹینکر مالک اور ڈرائیور سے مجموعی طور پر 13 کروڑ روپے سے زائد ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے عدالت کو مطلع کیا کہ رواں سال مارچ 2026 میں کورنگی صنعتی ایریا میں واقع چمڑا چورنگی کے قریب ایک تیز رفتار اور بے قابو واٹر ٹینکر نے سڑک سے گزرتے ہوئے نوجوان طلحہ ظہیر کو بے دردی سے کچل دیا تھا، جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔
عدالت میں پیش کی گئی میڈیکل رپورٹ میں بھی اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے کہ متوفی طلحہ ظہیر کی موت واٹر ٹینکر کے خوفناک حادثے میں لگنے والی شدید اور مہلک چوٹوں کے باعث ہی ہوئی۔ بیوہ کی جانب سے دائر درخواست میں دردناک مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متوفی اپنے پورے گھرانے کا واحد کفیل اور کمانے والا شخص تھا، اور اس ناگہانی موت کے بعد معصوم اہل خانہ نہ صرف گہرے ذہنی صدمے سے دوچار ہیں بلکہ مستقل شدید مالی مشکلات کی دلدل میں دھنس گئے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے معزز عدالت کے سامنے سخت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق سڑکوں پر اندھا دھند گاڑیاں چلا کر قیمتی انسانی جانیں لینے والوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ ‘جان لیوا حادثات ایکٹ’ کے تحت ٹینکر کا مالک اور اس کا ملازم (ڈرائیور) قانونی طور پر متاثرہ خاندان کو پہنچنے والے اس ناقابلِ تلافی نقصان کا بھاری معاوضہ ادا کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ بیوہ کو ان کا قانونی حق دلوا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
