کراچی ویب ڈیسک | 1 جون 2026
کراچی میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کے سنگین بحران نے اب شہر کی جدید پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شہر کے مہران ڈپو کو گزشتہ 3 روز سے بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہے، جس کے باعث الیکٹرک بسوں (EV Buses) کو چارج کرنے کا عمل بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ بجلی نہ ہونے کے سبب بسوں کی بیٹریاں چارج نہیں ہو پا رہیں، جس کی وجہ سے شہر کے اہم روٹس پر الیکٹرک بس سروس کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کی برآمدات میں تاریخی اضافے کا امکان: آئی ایم ایف کی نئی پیش گوئی
پیپلز بس سروس کی انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ مہران ڈپو سے چلنے والے اہم روٹس، جن میں ملیر کینٹ سے سی ویو تک جانے والا ای وی ون (EV-1)، ملیر کینٹ سے نمائش تک جانے والا ای وی تھری (EV-3)، اور کھوکھرا پار سے ڈاکیارڈ تک چلنے والی پنک بس سروس (R-1) شامل ہیں، براہِ راست اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں۔ انتظامیہ فی الحال ان روٹس پر الیکٹرک بسوں کی جگہ ہائبرڈ بسیں چلا کر نظام کو کسی حد تک فعال رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم یہ عارضی انتظام زیادہ دیر تک جاری رکھنا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
یوٹیوب کا شاندار اقدام: آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے ذریعے ہوم فیڈ کو کسٹمائز کرنے کا نیا فیچر متعارف
بس سروس حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر مہران ڈپو کو فوری طور پر بجلی کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو ان تمام روٹس پر آپریشن مکمل طور پر معطل کرنا پڑے گا۔ اس خدشے کے حقیقت بننے کی صورت میں روزانہ ان بسوں کے ذریعے سفر کرنے والے ہزاروں شہری سڑکوں پر خوار ہوں گے اور ٹرانسپورٹ کا ایک بڑا نظام ٹھپ ہو جائے گا۔ شہریوں نے حکومتی اور متعلقہ بجلی فراہم کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی سہولت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مہران ڈپو کی بجلی فوری بحال کریں تاکہ الیکٹرک بسوں کا جدید نظام اپنی معمول کی فعالیت پر واپس آ سکے۔
کراچی: ڈیفنس میں تیز رفتاری کا قہر، خوفناک ٹریفک حادثے میں ڈرائیور جاں بحق