کنری ویب ڈیسک | 31 مئی 2026
کنری کے نواحی علاقے پکو موڑ کے قریب نور خان مشین کے مقام پر پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ 20 سالہ کیسری، جس کی شادی محض دو ماہ قبل لیکھراج کولہی نامی شخص سے ہوئی تھی، کی لاش اس کے گھر سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی، جسے دیکھ کر مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ کنری پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاش کو اپنی تحویل میں لیا اور پوسٹ مارٹم کے لیے تعلقہ ہسپتال کنری منتقل کر دیا، جہاں قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد اسے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کو ہر زاویے سے دیکھ رہے ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین ہو سکے۔
تاہم، کیسری کے والدین اور دیگر ورثاء نے اس واقعے کو خودکشی ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ متوفیہ کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ کیسری کو اس کے شوہر اور دیور نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا اور اب اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ورثاء نے میڈیا کو بتایا کہ شادی کے بعد سے ہی دونوں میاں بیوی کے تعلقات شدید کشیدہ تھے اور ان کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ والدین کا دعویٰ ہے کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو لاش پہلے ہی پھندے سے اتاری جا چکی تھی، جو کہ واقعے کو مشکوک بناتا ہے۔ انہوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کیسری کے مبینہ قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔
پولیس کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تحقیقات میں کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ تفتیشی افسران کے مطابق، پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ اور فرانزک جائزے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ معاملہ خودکشی کا ہے یا پھر ایک گھنونی سازش کے تحت کیا گیا قتل۔ فی الحال علاقے میں اس واقعے پر شدید اضطراب پایا جا رہا ہے اور مقامی سماجی تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کوئی اور بیٹی اس طرح کے سفاکانہ واقعات کا نشانہ نہ بنے۔