
کراچی 15 جون 2026
ملک بھر کی طرح تجارتی حب کراچی میں بھی مہنگائی کی لہر نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے۔ اشیائے خورد و نوش سے لے کر ایندھن، توانائی کے بلز، ادویات اور تعلیمی اخراجات تک، ہر چیز کی قیمتوں میں ہوشربا اور مسلسل اضافہ عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ آج کا شہری ایک ایسی معاشی جنگ لڑ رہا ہے جہاں اس کی آمدنی محدود اور ساکن ہے، جبکہ اخراجات آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بحران کی عکاس ہے بلکہ یہ معاشرتی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
کراچی کی مختلف بڑی اور چھوٹی منڈیوں میں سبزیوں، پھلوں، آٹے، چینی، دالوں، گھی، چاول اور گوشت کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران جو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، وہ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ ٹماٹر، پیاز، ادرک، لہسن اور آلو جیسی بنیادی سبزیاں، جو ایک عام گھرانے کے دسترخوان کی ضرورت ہیں، اب سفید پوش طبقے کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ شہری بازار جاتے ہوئے گھبراتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی جیب میں موجود رقم ان کی ضروریاتِ زندگی کا بمشکل ایک تہائی حصہ ہی پورا کر پائے گی۔ گوشت، مرغی اور دودھ جیسی اشیاء کی قیمتیں تو اب عیاشی میں شمار ہونے لگی ہیں۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ تباہ کن اثر متوسط اور نچلے طبقے پر پڑا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ماہانہ گھریلو بجٹ مرتب کرنا ایک معمہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا فرد جو اپنی پوری زندگی محنت اور دیانتداری سے گزارتا ہے، اب اپنی ماہانہ تنخواہ کے پہلے ہفتے میں ہی ختم ہو جانے پر مجبور ہے۔ اس کے بعد کے تین ہفتے قرضوں اور ادھار کے سہارے گزرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہاڑی دار مزدور کا طبقہ ہے جو ہر روز کام کی تلاش میں نکلتا ہے، لیکن مہنگائی کے اس سیلاب میں اس کی دیہاڑی کی وقعت ختم ہو چکی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کے لیے جس کشمکش سے گزر رہا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
والدین کے لیے صورتحال مزید تشویشناک ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی خاندانوں نے اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا لیا ہے کیونکہ وہ فیس اور کتابوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ صحت کی سہولیات تو پہلے ہی مہنگی تھیں، اب ادویات کی قیمتوں میں اضافے نے غریبوں کے لیے بیماری کا علاج کروانا ناممکن بنا دیا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق مہنگائی میں اس بے تحاشا اضافے کے پیچھے کئی پیچیدہ عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم عنصر ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر پڑتا ہے، جس سے ہر شے کی نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے اور بالاخر یہ بوجھ صارف کو اٹھانا پڑتا ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے درآمدی اشیاء کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ پاکستان اپنی بہت سی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہر درآمدی چیز کو مہنگا کر دیتا ہے۔
مزید برآں، انتظامی کوتاہیاں بھی اس صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔ ملک میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف حکومتی گرفت انتہائی کمزور ہے۔ منڈیوں میں ایک مافیا سرگرم ہے جو مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں کو بڑھاتا ہے اور عام آدمی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ناقص معاشی پالیسیوں اور حکومتی سطح پر مربوط منصوبہ بندی کے فقدان نے بھی معاملات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ مارکیٹ میں اعتماد کا بحران ہے، سرمایہ کار ڈر رہے ہیں، اور تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔
شہری حلقوں اور سول سوسائٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ صرف بیانات اور کاغذی اعلانات سے عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بازاروں میں پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کرنا ہوگا تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت، تاجر برادری اور متعلقہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر ایسی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی جس سے عوام کو فوری ریلیف ملے۔ حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ روپے کی قدر کو مستحکم کیا جا سکے اور صنعتی پیداوار میں اضافہ کر کے درآمدات پر انحصار کم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کر کے اشیائے خورد و نوش کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ ملک خوراک میں خود کفیل ہو سکے۔
ماہرین کا متفقہ خیال ہے کہ اگر بروقت اصلاحاتی اقدامات نہ کیے گئے اور عوام کو اس مہنگائی کے سیلاب سے بچانے کے لیے ٹھوس پالیسیاں نہ بنائی گئیں، تو مہنگائی کے منفی اثرات نہ صرف ملکی معیشت بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سماجی بے چینی، جرائم میں اضافہ اور اخلاقی گراوٹ جیسے مسائل مہنگائی ہی کی پیداوار ہوتے ہیں۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اس معاشی بحران کا مقابلہ کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کر کے معاشی استحکام کی راہ ہموار کریں۔ کراچی جیسے شہر کا پہیہ اگر رک گیا تو یہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ لہذا، کراچی کی معاشی ساکھ کو بچانا اور یہاں کے شہریوں کو مہنگائی کی چکی سے نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
