کیلیفورنیا (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی ‘میٹا’ کو انٹرنیٹ صارفین اور ڈیٹا پرائیویسی کے عالمی ماہرین کے شدید احتجاج اور دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے ہیں۔ فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے عوامی تنقید اور رازداری (پرائیویسی) سے متعلق سنگین خدشات سامنے آنے کے بعد اپنا حال ہی میں لانچ کیا گیا متنازع مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی تصویر سازی کا فیچر ‘میوز امیج’ متعارف ہونے کے چند ہی روز بعد فوری طور پر عالمی سطح پر واپس لے لیا ہے۔ یہ فیچر پچھلے ہفتے ہی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے میٹا کے نئے اے آئی اسسٹنٹ (Meta AI) کے ایک بڑے اپ گریڈ کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جو عام صارفین کے لیے کمپنی کا پہلا لائیو امیج جنریشن ماڈل تھا، مگر یہ اقدام کمپنی کے لیے ایک بڑا سر درد بن گیا۔
مارکیٹ میں موجود دیگر اے آئی امیج جنریٹرز کے برعکس، میٹا کے اس ‘میوز امیج’ فیچر کی سب سے متنازع بات یہ تھی کہ یہ نئی تصاویر تیار کرنے کے لیے صارفین کے ‘عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹس’ (Public Instagram Accounts) پر موجود ذاتی تصاویر اور ویڈیوز کو بطور حوالہ (Reference Model) استعمال کرتا تھا۔ جیسے ہی یہ بات پبلک ہوئی، دنیا بھر کے کروڑوں صارفین نے اپنی ذاتی معلومات اور چہرے کے خدوخال کے اس خفیہ استعمال پر میٹا کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے رازداری کے حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر ‘بائیکاٹ میٹا’ کی مہم چلنے اور صارفین کی جانب سے شدید قانونی کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد پبلک پریشر اس قدر بڑھا کہ کمپنی کو ہنگامی بنیادوں پر یہ فیچر معطل کرنا پڑا۔
شدید عالمی تنقید اور احتجاج کے بعد میٹا نے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اس فیچر کو اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے آفیشل بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ہم نے اپنے صارفین کی آراء اور تحفظات کو بہت سنجیدگی سے سنا ہے اور ہمیں یہ محسوس ہوا ہے کہ یہ فیچر فی الحال صارفین کی توقعات اور پرائیویسی کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا، اس لیے اسے اب مزید دستیاب نہیں رکھا جا رہا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد صرف ایک مفید تخلیقی ٹول فراہم کرنا تھا، لیکن اب اس فیچر کو اس وقت تک رول آؤٹ نہیں کیا جائے گا جب تک صارفین کو اپنے پبلک مواد کو اے آئی ٹریننگ سے خارج (Opt-out) کرنے کا آسان اور واضح اختیار نہیں مل جاتا۔
