کراچی (ویب ڈیسک) 19 جون 2026
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں فعال غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک منظم نیٹ ورک کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک ڈیجیٹل فراڈ کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو لوٹنے میں ملوث تھا۔
کارروائی اور گرفتاریاں
این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے خفیہ اطلاع پر شہر کے پوش علاقوں ڈیفنس فیز 8 اور پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں واقع کال سینٹرز پر اچانک چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 11 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ان غیر قانونی مراکز کو چلانے اور فراڈ میں ملوث تھے۔
طریقہ واردات
ابتدائی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان انتہائی جدید تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی بینکوں کے عملے کا روپ دھارتے تھے۔ یہ گروہ اسپوفنگ کالز کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو فون کرتا اور انہیں باتوں میں الجھا کر ان کی انتہائی حساس معلومات جیسے کہ سوشل سیکیورٹی نمبرز، کریڈٹ کارڈز کے سی وی وی (CVV) کوڈز اور دیگر اہم بینکنگ ڈیٹا حاصل کر لیتا تھا۔

برآمدگی اور قانونی کارروائی
این سی سی آئی اے نے چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں جدید آلات اور ڈیٹا برآمد کیا ہے جن میں لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور ہزاروں غیر ملکی شہریوں کا خفیہ بینکنگ ڈیٹا شامل ہے۔ حکام کے مطابق تمام ڈیجیٹل آلات اور شواہد کو تحویل میں لے کر فرانزک اور تکنیکی تجزیے کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے۔
گرفتار ملزمان کے خلاف پیکا (PECA) ایکٹ سمیت متعلقہ قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ این سی سی آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے مزید سہولت کاروں اور مرکزی ماسٹر مائنڈز تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
