قائمہ کمیٹی کی بڑی منظوری؛ 58 سال بعد مزارِ قائد کی آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ، گاڑیوں پر ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی سفارش!

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 23 جون 2026

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے 58 سال بعد مزارِ قائد مینجمنٹ بورڈ کی آمدن کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے عوام اور آٹو انڈسٹری کے لیے بڑے ریلیف کی سفارش کرتے ہوئے درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹیز کی شرح میں 26 سے 56 فیصد تک کمی کی تجویز دی ہے، جس سے ملک میں گاڑیاں نمایاں سستی ہونے کا امکان ہے۔ یہ تمام اہم سفارشات فنانس بل 2026 کا حصہ ہیں، جنہیں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب آج منظوری کے لیے قومی اسمبلی کے باقاعدہ اجلاس میں پیش کریں گے۔

کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے مطابق، فنانس بل میں شامل یہ ترامیم ملکی ٹیکس اور ٹیرف کے ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گی۔ مزارِ قائد مینجمنٹ بورڈ کے علاوہ کمیٹی نے فلاحی ادارے ‘میک اے وش فاؤنڈیشن’، صوبائی ایمپلائز سوشل سیکیورٹی اداروں اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کو بھی انکم ٹیکس سے مکمل چھوٹ دینے کی منظوری دی ہے۔ دوسری جانب تاجروں کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ سال 2027 سے ایسے تاجر جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے تک ہے، وہ ایک بار فکسڈ ٹیکس اسکیم اختیار کرنے کے بعد اس سے باہر نکلنے (آپٹ آؤٹ کرنے) کے مجاز ہوں گے۔ حکومت کی مجوزہ اسکیم کے تحت تاجر محض 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس ادا کر کے آڈٹ کی پیچیدگیوں سے استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں۔

آٹو سیکٹر کے حوالے سے قائمہ کمیٹی نے ٹیرف میں بڑی کٹوتی کی سفارش کی ہے، جس کے تحت درآمدی گاڑیوں پر عائد زیادہ سے زیادہ ڈیوٹی کو 156 فیصد کے ریکارڈ لیول سے کم کر کے 74 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے تجویز کردہ نیا ڈیوٹی اسٹرکچر کچھ یوں ہے:

ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے کمیٹی نے فارماسیوٹیکل، کھاد، سگریٹ، چینی، موبائل فون، فوڈ پراسیسنگ، الیکٹرانکس اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء (FMCGs) پر 0.5 فیصد کم از کم (مینیمم) ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں اسٹیل سیکٹر پر 30 روپے فی یونٹ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عوام کے لیے ایک اور بڑی راحت کی خبر یہ ہے کہ ٹیکس ریٹرن دیر سے جمع کرانے پر حکومت کی جانب سے مجوزہ ایک لاکھ روپے جرمانے کی سخت تجویز کو قائمہ کمیٹی نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے یہ شرط برقرار رکھی گئی ہے کہ لیٹ ریٹرن فائل کرنے والوں پر 6 ماہ تک جائیداد کی رجسٹریشن اور منتقلی پر پابندی عائد رہے گی۔ ایوی ایشن سیکٹر کے حوالے سے قومی اسمبلی کے پینل نے پی آئی اے کے ساتھ ساتھ ملک میں رجسٹرڈ تمام دیگر ایئرلائنز کو بھی ٹیکس چھوٹ دینے کی سفارش کی ہے تاکہ انڈسٹری میں امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو، تاہم پی آئی اے کے علاوہ دیگر نجی ایئرلائنز کے لیے اس رعایت کا اطلاق جولائی 2027 سے ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں