کراچی کی کھدی ہوئی سڑکیں اور ڈمپر مافیا: شہرِ قائد کے باسیوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں؟


اسلام آباد : 22 جون 2026

کراچی، جسے کبھی ’روشنیوں کا شہر‘ کہا جاتا تھا، آج کل بدانتظامی، ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور بے لگام ڈمپر مافیا کے رحم و کرم پر ہے۔ شہر کی کوئی ایسی شاہراہ، کوئی ایسا گلی کوچہ نہیں بچا جو ترقیاتی کاموں کے نام پر کھود کر لاوارث نہ چھوڑ دیا گیا ہو۔ رہی سہی کسر رات کے اندھیرے میں موت بن کر دوڑنے والے ڈمپر مافیا نے پوری کر دی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس شہر کے شہریوں کی جان و مال کی کوئی قیمت ہی نہیں رہی۔

کھدی ہوئی سڑکیں: ترقی یا عذاب؟
کراچی کے شہریوں کے لیے گھر سے نکلنا کسی بڑے معرکے سے کم نہیں ہے۔ ترقیاتی منصوبوں، سیوریج لائنوں کی تنصیب اور واٹر بورڈ کی کھدائی کے نام پر شہر کے اہم ترین علاقوں (بشمول کورنگی، ناظم آباد، گلستانِ جوہر اور ملیر) کی سڑکیں مہینوں سے ادھیڑ کر چھوڑ دی گئی ہیں۔

دھول اور مٹی کا طوفان: ان ادھوری سڑکوں کی وجہ سے پورا شہر گرد و غبار کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث شہریوں میں سانس، گلے اور آنکھوں کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

بدترین ٹریفک جام: گھنٹوں کا سفر اب دنوں پر محیط لگتا ہے۔ ایمبولینسیں ٹریفک میں پھنسی رہتی ہیں اور مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

کاروبار کی تباہی: سڑکیں بند ہونے اور مٹی اڑنے کی وجہ سے دکانداروں کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

شہریوں کا سوال: “کیا ترقی کا مطلب عوام کو اذیت دینا ہے؟ دنیا بھر میں سڑکیں راتوں رات بنتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں ایک گڑھا بھرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔”

اگر کھدی ہوئی سڑکیں ایک عذاب ہیں، تو ڈمپر مافیا اس شہر کا دوسرا بڑا ڈراؤنا خواب ہے۔ جیسے ہی سورج ڈھلتا ہے، بھاری بھرکم ڈمپرز اور مکسر کینٹینرز شہر کی سڑکوں پر راج کرنے نکل پڑتے ہیں۔

بے خوف اور بے لگام: ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے یہ ڈمپرز اسپیڈ لمٹ کی پرواہ کیے بغیر سڑکوں پر دوڑتے ہیں۔ ان کے ڈرائیورز کی اکثریت یا تو کم عمر لڑکوں پر مشتمل ہوتی ہے یا پھر وہ نشے کی حالت میں ہوتے ہیں۔

سڑکوں کی مزید تباہی: ان اوور لوڈڈ ڈمپرز کی وجہ سے جو سڑکیں تھوڑی بہت ٹھیک بھی تھیں، وہ بھی بیٹھ چکی ہیں اور ان میں گہرے گڑھے پڑ چکے ہیں۔

انسانی جانوں کا زیاں: آئے روز اخبارات کی سرخیاں ڈمپر کے نیچے آکر کچلے جانے والے موٹر سائیکل سواروں اور معصوم بچوں کی خبروں سے بھری ہوتی ہیں۔ لیکن افسوس، چند روپوں کی رشوت کے عوض ان قاتلوں کو ہر ناکے پر ’گرین سگنل‘ مل جاتا ہے۔

کراچی کے اس سنگین صورتحال پر سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی (KMC) اور ٹریفک پولیس کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ڈمپر مافیا پر پابندی کے قوانین صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ نوٹس تو لیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آتا۔ ٹھیکیداروں کو ادھوری سڑکیں چھوڑنے پر کوئی جرمانہ نہیں کیا جاتا، اور نہ ہی ڈمپر مالکان پر کوئی سخت گرفت کی جاتی
کراچی کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے اب لفظی دعووں سے آگے بڑھ کر ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے:

ٹائم لائن کی پابندی: سڑکوں کی کھدائی کے بعد انہیں فوری طور پر کارپٹ کرنے کے لیے ٹھیکیداروں کو سخت ڈیڈ لائن دی جائے۔

ڈمپرز کے لیے مخصوص اوقات اور روٹس: بھاری ٹریفک کو رہائشی علاقوں میں داخل ہونے سے مکمل روکا جائے اور ان کی رفتار کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل سسٹم وضع کیا جائے۔

سخت سزائیں: بغیر لائسنس اور اوور لوڈڈ ڈمپر چلانے والوں کو بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں دی جائیں۔

کراچی اس ملک کا معاشی انجن ہے۔ اگر یہ انجن اسی طرح ٹوٹی سڑکوں اور مافیاز کے نیچے کچلتا رہا، تو پورا ملک اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ حکامِ بالا کو اب خوابِ خرگوش سے جاگنا ہوگا، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔اگر کھدی ہوئی سڑکوں اور ڈمپر مافیا کے مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو شہری مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ متعلقہ ادارے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کراچی کے عوام کو محفوظ، ہموار اور بہتر سفری سہولیات فراہم کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں