کراچی (کورٹ رپورٹر) 13 جولائی 2026
کراچی کی سٹی کورٹ نے شہر کی بدنامِ زمانہ منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمات کی سماعت کے دوران جیل انتظامیہ کی سنگین غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ملزمہ انمول پنکی کے زیرِ حراست مسلح ساتھیوں کو جوڈیشل ریمانڈ کے باوجود سماعت پر عدالت میں پیش نہ کرنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ریمارکس دیے کہ جیل حکام ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر تحریری وضاحت جمع کرائیں کہ ملزمان کو کیوں روک کر رکھا گیا اور انہیں پیش نہ کرنے کی جرات کیسے کی گئی، جو کہ کھلی قانون شکنی ہے۔
سماعت کے دوران معزز عدالت نے واضح کیا کہ کیس کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کو سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بنا پر صرف آج کی پیشی سے استثنا (Exemption) دیا گیا تھا، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس گینگ کے دیگر شریک ملزمان کو بھی جیل میں ہی روک لیا جائے۔ عدالت نے جیل انتظامیہ کے اس اقدام کو عدالتی احکامات کی توہین اور قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ دوسری جانب، کیس کے تفتیشی افسر (IO) نے عدالت سے مقدمے کا حتمی چالان پیش کرنے کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے مواد کی فرانزک اور مختلف سرکاری اداروں سے تصدیقی رپورٹس تاحال موصول نہیں ہوئیں، جیسے ہی رپورٹس ملیں گی، جامع چالان عدالت میں جمع کرا دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف کراچی کے علاقے گارڈن میں بھاری مقدار میں منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے متعدد سنگین مقدمات درج ہیں، اور پولیس انہیں گینگ وار اور بین الصوبائی ڈرگ سپلائی چین کا اہم حصہ قرار دے رہی ہے۔ عدالت نے جیل حکام کو اگلی سماعت پر تمام ملزمان کی حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
