گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی وصیت نما آڈیو سامنے آگئی؛ پولیس اہلکار پر 30 لاکھ روپے رشوت لے کر ملزم رہا کرنے کا الزام
ویب ڈیسک
13 مئی 2026
کراچی میں منشیات فروشی کے نیٹ ورک کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد تفتیش میں سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، اب ملزمہ کا ایک نیا آڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں وہ اپنے کارندوں کو ہدایات دے رہی ہے کہ اس کی عدم موجودگی یا موت کی صورت میں بھی منشیات کا کاروبار نہیں رکنا چاہیے۔ آڈیو میں پنکی کا کہنا ہے کہ “اگر تم یہ پیغام سن رہے ہو تو اس کا مطلب ہے کہ میں گرفتار ہو چکی ہوں یا میرا انتقال ہو گیا ہے، لیکن کام ایسے ہی چلتا رہے گا،” اس نے مزید بتایا کہ اب تمام معاملات ایک مرد سنبھالے گا جو جلد نئے نمبر سے سب سے رابطہ کرے گا۔
تحقیقات میں ایک اور بڑا انکشاف اس وقت ہوا جب ملزمہ کی جناح اسپتال چوکی پر تعینات کامران نامی پولیس اہلکار کے ساتھ گفتگو کی آڈیو بھی منظرِ عام پر آگئی، جس نے پولیس کے محکمے میں موجود کالی بھیڑوں کے منشیات فروشوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کو واضح کر دیا ہے۔ آڈیو پیغام کے مطابق پولیس اہلکار کامران نے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے کی بھاری رشوت کے عوض پنکی کے بھائی ناصر کو رہا کیا تھا، ناصر نے خود تصدیق کی کہ اسے اسپتال کے ایک کمرے میں بٹھایا گیا تھا جہاں لین دین کے معاملات طے پائے۔
ذرائع کے مطابق پولیس کی خصوصی ٹیم نے ان آڈیو پیغامات کو اپنی تفتیش کا حصہ بنا لیا ہے اور اہلکار کامران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کا نیٹ ورک کافی وسیع ہے اور اس آڈیو پیغام سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اپنی گرفتاری کی صورت میں متبادل منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ تفتیشی حکام اب اس “نامعلوم مرد” کی تلاش میں ہیں جسے پنکی نے اپنا جانشین مقرر کیا ہے تاکہ اس گروہ کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔