کراچی (اسٹاف رپورٹر) 23 جون 2026
ملک بھر کے صرافہ بازاروں اور عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کے خریداروں کے لیے بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جہاں آج منگل کے روز سونے کی قیمتوں میں یکدم بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کے باعث مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتیں اوندھے منہ نیچے آ گریں، جس سے گزشتہ کئی دنوں سے جاری مہنگائی کے تسلسل کو بریک لگ گیا ہے۔ مقامی صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی تبدیلی کے اثرات پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں بشمول کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کی مارکیٹوں پر فوری طور پر منتقل ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر کاروباری گہما گہمی اور معاشی ردوبدل کے باعث فی اونس سونے کی قیمت میں 104 ڈالر کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 98 ڈالر فی اونس کی سطح پر بند ہوئی۔ عالمی مارکیٹ میں آنے والی اس بڑی گراوٹ کا براہِ راست اثر مقامی صرافہ بازاروں پر پڑا، جہاں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں یکمشت 10 ہزار 400 روپے کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ اس بڑی کمی کے بعد پاکستان میں فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 32 ہزار 236 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ صرافہ مارکیٹ میں فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق فی 10 گرام سونا 9 ہزار 360 روپے سستا ہو گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3 لاکھ 68 ہزار 985 روپے کی سطح پر ریکارڈ کی گئی۔ صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اتنی بڑی کمی حالیہ دنوں میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جس کی وجہ سے وہ متوسط اور شادی بیاہ کے لیے خریداری کرنے والے صارفین جو قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پریشان تھے، اب مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی آج مندی کا رجحان غالب رہا۔ مقامی سطح پر کاروباری بندش تک فی تولہ چاندی کی قیمت 487 روپے کی کمی کے بعد 6 ہزار 664 روپے کی سطح پر آگئی، جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 438 روپے کم ہو کر 5offset ہزار 641 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر ڈالر کی پوزیشن اور سرمایہ کاروں کے رجحانات میں تبدیلی کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں یہ عارضی یا مستقل کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔