کراچی (ویب ڈیسک) 23 جون 2026
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی صفِ اول کی معروف اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر نے کئی برس قبل پیش آنے والے اپنی نجی تصاویر کے لیک ہونے کے ہنگامہ خیز تنازع پر پہلی بار باقاعدہ طور پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے پہلی بار کھل کر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ تمام تصاویر ان کی مرضی یا اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر شیئر کی گئی تھیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے عائشہ عمر نے کہا کہ وہ اپنی قریبی دوست اور سینئر اداکارہ ماریہ وسطی کے ہمراہ تھائی لینڈ میں نجی چھٹیاں گزار رہی تھیں، جب ساحلِ سمندر پر لی گئی ان کی یہ تصاویر چوری کر کے سوشل میڈیا پر گردش کرا دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تصاویر میں وہ سمندر کے کنارے موجود تھیں، جن میں سے ایک تصویر میں انہوں نے سوئمنگ سوٹ جبکہ دیگر میں موسمِ گرما کے عام ملبوسات اور مختصر اسکرٹس زیب تن کیے ہوئے تھے۔
اداکارہ نے اس واقعے کے اپنے کیریئر اور ذہنی صحت پر پڑنے والے انتہائی منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد انہیں عوامی سطح پر شدید ترین تنقید، ٹرولنگ اور ملامت کا سامنا کرنا پڑا، جس نے نہ صرف ان کی ذاتی اور فیملی لائف کو شدید متاثر کیا بلکہ ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کو بھی گہرا دھچکا پہنچایا۔ عائشہ عمر نے اس دور کے شوبز انڈسٹری کے تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت انڈسٹری میں موجود بعض بااثر پروڈیوسرز خواتین سے متعلق روایتی اور مخصوص سماجی تصورات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے، جس کی وجہ سے اس تنازع کے بعد انہیں ہٹ دھرمی کا نشانہ بناتے ہوئے کئی اہم پروجیکٹس اور کاموں سے محروم کر دیا گیا۔

انہوں نے سائبر کرائم اور پرائیویسی کے قوانین پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی انسان کی نجی زندگی کی تصاویر، ویڈیوز یا معلومات کو اس کی منشا اور اجازت کے بغیر پبلک کرنا پرائیویسی اور بنیادی انسانی رضامندی کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی تلخ تجربے کی وجہ سے اب انہوں نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور وہ ایک غیر سرکاری تنظیم (NGO) کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور تصاویر کے غلط استعمال کے خلاف ایک باقاعدہ آگاہی مہم کا حصہ بن کر کام کر رہی ہیں تاکہ دیگر خواتین کو ایسے حالات سے بچایا جا سکے۔
عائشہ عمر کا کہنا تھا کہ اتنے طویل عرصے اور برسوں بعد اس تکلیف دہ معاملے پر دوبارہ زبان کھولنے کا مقصد محض اپنی پرانی تکلیف یا دکھ کو بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ سوسائٹی اور سوشل میڈیا صارفین میں یہ شعور اور احساسِ ذمہ داری بیدار کرنا ہے کہ کسی کی نجی زندگی میں بلا اجازت مداخلت کرنا اور اس کے ڈیٹا کو وائرل کرنا ایک جرم ہے جو کسی بھی انسان کے مستقبل کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اداکارہ کے اس جرات مندانہ انٹرویو اور بیان کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے خواتین کی پرائیویسی کے تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ کچھ صارفین اس پر اب بھی اپنی مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔