کراچی: ویب ڈیسک
تاریخ: 27 جون، 2026
لاہور کے علاقے برکی میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک مدرسے کے قاری نے مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر 12 سالہ طالبعلم علی حیدر کی جان لے لی۔ اس افسوسناک واقعے نے علاقے بھر میں سوگ کی فضا قائم کر دی ہے اور والدین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مدرسے کے قاری غلام رسول نے بچے کو کسی معمولی بات پر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کی شدت علی حیدر برداشت نہ کر سکا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس واقعے نے تعلیمی مراکز میں بچوں کی حفاظت اور ان پر ہونے والے مبینہ تشدد کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے مقتول بچے کی لاش کو تحویل میں لے کر فوری طور پر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہی موت کی اصل وجہ، تشدد کے نشانات اور دیگر طبی پہلوؤں کا حتمی تعین ہو سکے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اس کیس میں ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی، جس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر پوسٹ مارٹم میں تشدد کی تصدیق ہوتی ہے، تو ملزم کو سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب، پولیس نے علی حیدر کے اہلخانہ کی مدعیت میں قاری غلام رسول کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ملزم واقعے کے فوری بعد مدرسے سے فرار ہو گیا تھا، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تاحال ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے، تاہم پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کے قریبی رفقاء اور روپوش ہونے کے مقامات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ اسے جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
اس المناک واقعے کے بعد علاقہ مکینوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مدرسے میں بچوں پر ہونے والے تشدد کے اس ظالمانہ واقعے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کے ہر پہلو سے تحقیقات کر رہے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس مدرسے میں ماضی میں بھی بچوں پر تشدد کیا جاتا رہا ہے یا نہیں۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تحقیقات کو شفاف رکھا جائے گا اور کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔