کراچی: ویب ڈیسک
تاریخ: 27 جون، 2026
کراچی کا علاقہ گلستانِ جوہر آج رات شدید خوف و ہراس کی لپیٹ میں آ گیا جب یونیورسٹی روڈ پر واقع موسمیات چورنگی کے قریب یکے بعد دیگرے شدید فائرنگ اور زوردار دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کی عمارتوں میں لرزہ پیدا ہو گیا، جس کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو گئیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ریسکیو 1122 سندھ کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گلستانِ جوہر بلاک 5 کے قریب دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے بعد سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول نے فوری طور پر امدادی ٹیموں کو موقع پر پہنچنے کی ہدایات جاری کیں۔ فی الحال ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ زخمیوں کی منتقلی اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ علاقے کو پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جائے وقوعہ کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام بشمول ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ، اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر اضافی نفری کے ساتھ خود جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں۔ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) کی موجودگی سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یہ کوئی منظم کارروائی ہو سکتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ دھماکے کی نوعیت اور فائرنگ کرنے والے ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے موسمیات چورنگی کے قریب پیش آنے والے اس پرتشدد واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے ہنگامی رابطہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کی فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے حکم دیا ہے کہ علاقے کی سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔