اسلام آباد (ویب ڈیسک) 6 جولائی 2026
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے ملک میں زیرِ بحث نئے ٹیلی کام بل پر پھیلی تمام افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس قانون کے تحت کسی بھی شہری کی ذاتی زمین یا جائیداد پر کوئی زبردستی قبضہ نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ ایک اہم اور ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ بل کا بنیادی اور واحد مقصد ملک بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ پرانا قانون موجودہ دور کی جدید ٹیکنالوجی کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہو چکا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے بل کی پارلیمانی منظوری کے مراحل پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ بل تقریباً 6 ماہ تک قومی اسمبلی میں زیرِ غور رہا جہاں اسے 6 اہم ترامیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کیا گیا، جبکہ سینیٹ میں بھی اسے مزید جمہوری مشاورت کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔ شزا فاطمہ نے واضح کیا کہ یہ قانون دراصل ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مسائل کا مستقل حل نکالنے کے لیے بنایا گیا ہے جو پہلے ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرتی ہیں اور بعد میں انفراسٹرکچر بچھانے میں بلاوجہ رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی بھی عام شہری اپنی نجی پراپرٹی پر ٹیلی کام ٹاور یا نیٹ ورک بچھانے کی اجازت نہیں دینا چاہتا تو یہ اس کا مکمل آئینی اور قانونی حق ہے، جس کا احترام کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے اپنے اور سیکرٹری آئی ٹی کے خلاف لگائے جانے والے مالی بدعنوانی کے الزامات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بل کے حوالے سے مجھ پر اور سیکرٹری آئی ٹی پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔” انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان سے خود درخواست کر چکی ہیں کہ ان الزامات کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ شزا فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ وزارتِ آئی ٹی اور متعلقہ حکام اپنے خلاف لگائے گئے ان بے بنیاد مالی الزامات پر سخت قانونی کارروائی کا پورا حق محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ نجی جائیدادوں سے متعلق قواعد و ضوابط (Rules) کو مزید واضح کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کے کسی بھی شہری کے حقوق رتی برابر بھی متاثر نہ ہوں۔
