روشنیوں کا شہر کراچی ان دنوں شدید ترین گرمی اور حبس کی سخت لپیٹ میں ہے، جہاں ستمبر کے مہینے میں گزشتہ 9 سال کا ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے اور درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے آفیشل ویدر اسٹیشنز کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز پہلوان گوٹھ اسٹیشن پر زیادہ سے زیادہ پارہ 40.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جناح ٹرمینل اور اطراف کے علاقوں میں پارہ 41.2 ڈگری تک جا پہنچا۔ شہر قائد میں ستمبر کے دوران اس سے قبل زیادہ سے زیادہ گرمی کا ریکارڈ سن 2017 میں 40.5 ڈگری دیکھا گیا تھا، تاہم رواں لہر نے اس سنگ میل کو عبور کر کے 9 سالہ تاریخ بدل ڈالی ہے۔ فضا میں نمی کے غیر معمولی تناسب کے باعث اصل درجہ حرارت کے مقابلے ہیٹ انڈیکس یعنی گرمی کی شدت کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے جس سے معمولاتِ زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ کراچی میں ستمبر کے مہینے کا تاریخ ساز گرم ترین دن 30 ستمبر 1951 تھا جب پارہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔
محکمہ موسمیات اور ارلی وارننگ سینٹر کے ماہرین کے مطابق اس شدید اور غیر متوقع ہیٹ ویو کی بنیادی وجوہات بحیرہ عرب میں بننے والا ایٹموسفیرک سرکولیشن اور عالمی سطح پر النینو کا متحرک ہونا ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر و ترجمان انجم نذیر ضیغم نے اس موسمی بحران پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سمندری ہواؤں کا رخ تبدیل ہونے اور جنوب مغربی کم رفتار ہواؤں کے چلنے کی وجہ سے گرمی کا گراف تیزی سے اوپر گیا ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر ویدر اسٹیشنز نے متفرق ریڈنگز ریکارڈ کیں، جن میں گلستان جوہر میں 41 ڈگری، شاہراہِ فیصل پر 39.5 اور ماڑی پور میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ شامل ہے، جب کہ بن قاسم کے علاقے میں پارہ سب سے کم یعنی 34.5 ڈگری رہا۔ سمندری ٹھنڈی ہواؤں کے منقطع ہونے اور ہوا میں 55 فیصد سے زائد نمی کے دباؤ نے پورے میٹروپولیس کو گرم بھٹی میں بدل دیا ہے، جس سے اسکیم 33 سمیت مختلف گنجان آباد علاقوں میں شہری نہ صرف پسینے میں شرابور رہے بلکہ بجلی کے تعطل نے عوامی مشکلات کو دوچند کر دیا۔
موسمیاتی تجزیہ کاروں اور چیف میٹرولوجسٹ کے جاری کردہ تازہ ترین تخمینوں کے مطابق کراچی کے باسیوں کو گرمی اور حبس کے اس عذاب سے جلد ریلیف ملنے کی امید ہے۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ منگل کے روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم بدھ سے فضا میں ٹھنڈک اور بحیرہ عرب کی جانب سے چلنے والی معتدل سمندری ہواؤں کی مرحلہ وار بحالی متوقع ہے جس کے بعد پارہ نمایاں کمی کے ساتھ 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے گا۔ نہ صرف کراچی بلکہ دیہی سندھ کے دیگر اہم شہر جیسے حیدرآباد، شہید بینظیر آباد اور خیرپور بھی 42 ڈگری اور چھور 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی تپش برداشت کر رہے ہیں۔ ماہرین صحت نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنائیں اور سن اسٹروک سے بچاؤ کی تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
