روشنیوں کا شہر کراچی مسلسل تپتی دھوپ، دم گھونٹتے حبس اور غیر معمولی گرمی کی شدید لپیٹ میں ہے، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے جاری کردہ تازہ ترین انتباہ کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے کے بعد سے فضا میں خنکی پیدا ہونے کے بجائے درجہ حرارت میں متواتر اضافے کا سلسلہ جاری ہے، اور اب آنے والے مہینے یعنی اکتوبر کے بھی معمول سے کہیں زیادہ گرم اور خشک رہنے کی تشویشناک پیشگوئی کر دی گئی ہے۔ موسمیاتی ریکارڈ کے مطابق 21 ستمبر کو شہر قائد میں پارہ 40.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا، جو کہ سن 2017 کے بعد ستمبر کا گرم ترین دن ثابت ہوا تھا۔ اگرچہ گزشتہ روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، تاہم ہوا کے کم دباؤ اور تپش کے باعث شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے گرمی کی شدت اصل ریڈنگ سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق آج بھی میٹروپولیس کا مطلع مکمل صاف اور موسم انتہائی گرم و مرطوب رہنے کی توقع ہے، جس کے دوران پارہ 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بحیرہ عرب کی جانب سے 15 تا 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سمندری ہوائیں چلنے کے باوجود فضا میں نمی کا تناسب 55 سے لے کر 85 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو کہ ہیٹ انڈیکس کو خطرناک حد تک بڑھانے کا بنیادی سبب بن رہا ہے۔ ہوا میں نمی کی اتنی زیادہ مقدار کی وجہ سے پسینہ جلد خشک نہیں ہو پا رہا، جس کے باعث عام راہگیروں، موٹر سائیکل سواروں اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک کے سنگین طبی خطرات پیدا ہو چکے ہیں، اور ہسپتالوں میں سن اسٹروک سے بچاؤ کے خصوصی وارڈز الرٹ رکھنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
موسمیاتی تجزیہ کاروں نے اس غیر معمولی اور طویل لہر کا سائنسی تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں رواں سال مون سون کا سیزن وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر قائد کو ستمبر کے اختتام سے قبل ہی اکتوبر جیسی جھلسا دینے والی روایتی گرمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عام طور پر پاکستان میں مون سون کا سلسلہ 30 ستمبر تک برقرار رہتا ہے جس سے سمندری ہوائیں فعال رہتی ہیں، مگر قبل از وقت سیزن سمٹنے اور عالمی سطح پر متحرک ایل نینو (El Niño) کے اثرات نے درجہ حرارت کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق یہی موسمیاتی تغیرات آنے والے پورے ماہِ اکتوبر کو معمول سے کہیں زیادہ گرم اور خشک رکھیں گے، اس لیے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے اجتناب برتیں، پانی اور او آر ایس کا وافر استعمال کریں اور سر ڈھانپ کر رکھیں۔
