Police prisoner transport van outside court in Rawalpindi after controversial handcuffing incident

تاریخ میں پہلی بار خواتین کو ہتھکڑیاں، راولپنڈی کچہری میں شدید احتجاج

پاکستان کی عدالتی اور پولیسنگ تاریخ میں ایک انتہائی متنازع اور غیر معمولی واقعہ اس وقت رونما ہوا جب راولپنڈی میں زیرِ سماعت مقدمات میں ملوث خواتین ملزمان کو باضابطہ طور پر آہنی ہتھکڑیاں پہنا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس غیر متوقع اور سخت اقدام نے قانونی حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ملزمان کے لواحقین میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جس کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء اور شہریوں نے کچہری کے احاطے میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق سنٹرل جیل اڈیالہ سے ضلع کچہری راولپنڈی لاتے اور بعد ازاں عدالتی کارروائی کے بعد واپس جیل منتقل کرنے تک خواتین ملزمان کے دونوں ہاتھ تقریباً 6 سے 7 گھنٹے تک مسلسل ہتھکڑیوں کی زنجیروں میں بری طرح جکڑے رہے۔ عدالتی راہداریوں میں خواتین کو ہتھکڑیوں میں لائے جانے کے مناظر دیکھ کر وکلاء اور سائلین دنگ رہ گئے، اور اس واقعے کو بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی روایات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جانے لگا۔

ہتھکڑیوں میں جکڑی خواتین ملزمان نے میڈیا نمائندگان اور وکلاء کے سامنے اپنے ساتھ پیش آنے والے توہین آمیز اور تلخ سلوک کی تفصیلات بتاتے ہوئے دہائی دی کہ دونوں ہاتھ ایک ساتھ بندھے ہونے کے باعث انہیں شدید جسمانی اور ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس غیر انسانی بندش کی وجہ سے انہیں اونچی پولیس قیدی وین میں سوار ہونے، نیچے اترنے، حاجت کے لیے واش روم جانے اور اپنا سر و دوپٹہ درست رکھنے میں ناقابلِ برداشت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خواتین نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مرد پولیس اہلکار مدد فراہم کرنے اور چڑھانے اتارنے کے بہانے انہیں پیچھے سے پکڑتے اور ہاتھ تھامتے رہے، جس نے ان کے پردے، حیا اور عزتِ نفس کو شدید مجروح کیا۔ اس دلخراش صورتحال پر خواتین کے رشتہ دار دھاڑیں مار کر روتے رہے اور انہوں نے پولیس کے اس طرزِ عمل کو چادر اور چاردیواری کے تقدس کی کھلی توہین قرار دیا ہے۔

راولپنڈی بار کے سینئر قانون دانوں اور رہنماؤں نے کچہری میں پرہجوم پریس کانفرنس اور احتجاج کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آئینِ پاکستان اور ضابطہ فوجداری کے تحت خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانا سراسر غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر اسلامی اور سفاکانہ غیر انسانی عمل ہے۔ سینئر وکیل شان زیب خان اور دیگر بار ممبران نے انکشاف کیا کہ یہ متنازع حکم مبینہ طور پر سی پی او راولپنڈی کی جانب سے جاری کیا گیا تھا جو کہ عدالتی نظائر اور بنیادی حقوق کے مکمل منافی ہے۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملکی قانون میں تو خواتین کے لیے سزائے موت پر عملدرآمد سے متعلق بھی انتہائی سخت اور محتاط اصول وضع کیے گئے ہیں، تو پھر زیرِ سماعت قیدی خواتین کی یوں سرِ عام تذلیل کس قانون کے تحت جائز ہے؟ ڈسٹرکٹ بار نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور آئی جی پنجاب سے فوری ازخود نوٹس لینے اور اس غیر قانونی حکم نامے کے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں