لاپتا بچے، بے بس والدین اور امن و امان کا بحران: سندھ کے مسائل کا حقیقی حل کیا؟

تحریر: عائشہ رانی
سندھ میں ایک طرف کرپشن کے مسائل ہیں تو دوسری طرف بچوں کی گمشدگی بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچے علاقوں میں ڈاکوؤں نے اغواء برائے تاوان کے واقعات بڑھا دیے ہیں۔ اب یہ مسئلہ تھانوں سے نکل کر شاہراہوں تک پہنچ گیا ہے۔ جولائی 2026 میں متاثرہ خاندانوں نے احتجاج کیا اور 17 لاپتہ بچوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ ان لاپتہ بچوں میں مئی 2025 میں کوٹری سے لاپتہ ہوئی بچی، نانگو لائن، خدا کی بستی (جھتیال فارم)، پتائی کالونی، جانو پاڑے، لاڑکانہ اور خیرپور کے بچے شامل ہیں۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں؛ سکھر میں 2021 میں لاپتہ ہوئی ایک بچی کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ سندھ میں یہ بہت افسوسناک حقیقت ہے کہ والدین اپنے گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے کے لیے ہر جگہ بھٹکتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ کس سے مدد لینی ہے یا شکایت کہاں درج کرنی ہے۔ جب یہ معاملہ مختلف محکموں، تھانوں اور حکومتی اداروں تک پہنچتا ہے تو ہر جگہ ذمہ داری سے انکار کیا جاتا ہے اور کوئی جوابدہ نظر نہیں آتا۔ آئین کے مطابق مقامی حکومتوں کو اختیارات ملنے چاہییں، مگر عملاً یہ اختیارات اسمبلیوں تک محدود ہیں۔ سندھ اسمبلی نے حال ہی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو آئین کے آرٹیکل 140A کے مطابق بنایا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ قانون عملی طور پر کتنا مؤثر ہے یا صرف کاغذوں میں محدود ہے؟ قانون کے کاغذوں تک محدود رہنے کی وجہ سے کچھ لوگ نئے انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ حکومت عوام کے قریب ہو۔ دوسری طرف بہت سے لوگ اسے جذباتی بات کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ مگر جب فیصلے دور بیٹھ کر ہوتے ہیں تو دور دراز علاقوں کے والدین کی آواز وہاں پہنچتی ہی نہیں۔ صرف ڈھانچہ بدلنا کافی نہیں، لیکن چھوٹے انتظامی یونٹ میں ذمہ داری طے کرنا آسان ہوتا ہے۔ اگر ان یونٹس کو پورے اختیارات اور وسائل دیے جائیں تو کرپشن اور نااہلی میں کمی آ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں