کراچی (15 اکتوبر 2026): کراچی سینٹر ایکشن کلائمیٹ اور کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی کے اشتراک سے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے لیے ’’شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور کراچی‘‘ کے موضوع پر ایک تربیتی نشست منعقد کی گئی، جس میں شہر میں بڑھتی ہوئی گرمی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، شہریوں کو درپیش مسائل اور ان سے نمٹنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ نشست کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی کی ابتدائی سرگرمیوں میں شامل تھی، جس میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔

تین گھنٹے جاری رہنے والی اس تربیتی نشست کی قیادت کراچی سینٹر ایکشن کلائمیٹ کے ڈائریکٹر یاسر حسین نے کی۔ نشست کا بنیادی مقصد صحافیوں کو شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خبروں کی درست، جامع اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے ضروری معلومات فراہم کرنا تھا، تاکہ عوام کو درپیش موسمیاتی خطرات اور ان کے ممکنہ حل کے بارے میں بہتر انداز میں آگاہ کیا جاسکے۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی کی سیکریٹری فہمیدہ یوسفی، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور سیکریٹری اسلم خان بھی شریک تھے۔

فہمیدہ یوسفی نے نشست کے انعقاد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب میں ماحولیاتی کمیٹی کا قیام اس احساس کے تحت عمل میں لایا گیا کہ موسمیاتی بحران کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، تاہم اس اہم مسئلے پر گفتگو اور آگاہی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب کے ذریعے ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے اور صحافیوں کو ان موضوعات پر بہتر انداز میں رپورٹنگ کے قابل بنانے کے لیے یہ نشست منعقد کی گئی ہے۔

یاسر حسین نے گفتگو کا آغاز شدید گرمی کے انسانی جسم پر اثرات کی بنیادی وضاحت سے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گرمی کی شدت کا تعین صرف درجہ حرارت سے نہیں ہوتا بلکہ ہوا میں نمی کی مقدار بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق جب درجہ حرارت کے ساتھ نمی کی سطح بھی بلند ہو تو انسانی جسم کے لیے پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہوجاتا ہے، جس سے گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور 70 فیصد نمی کی صورت میں گرمی کی محسوس ہونے والی شدت تقریباً 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی، نمی کے رجحانات، پانی کی قلت، شہری آبادیوں اور زراعت کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے تعلق پر بھی گفتگو کی۔ یاسر حسین کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک وسیع اصطلاح ہے، جس کے بعض اثرات مثبت بھی ہوسکتے ہیں، تاہم موجودہ صورت حال میں پاکستان سمیت دنیا کے متعدد علاقے موسمیاتی ہنگامی صورت حال سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی بحران کی شدت کے مقابلے میں اس مسئلے پر مطلوبہ سطح کا مکالمہ اور عملی ردعمل نظر نہیں آتا، اسی لیے صحافیوں کی تربیت اور آگاہی کے لیے اس نشست کا اہتمام کیا گیا۔

نشست کے دوران شرکا نے کراچی میں گرمی سے متعلق خطرات پر ہونے والی مختلف تحقیقی مطالعات کا جائزہ بھی لیا۔ اس موقع پر کراچی کے موسمیاتی عملی منصوبے میں شامل گرمی سے متاثر ہونے کے خطرے کے نقشوں اور ڈاکٹر جمیل کاظمی کی جانب سے عمارتوں کی حرارتی تصاویر پر مبنی تحقیق کا ذکر کیا گیا۔ شرکا کو کراچی اور مٹیاری میں آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے گرمی سے بچاؤ کے لیے کیے گئے تجربات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ان تجربات میں عمارتوں کی چھتوں پر حرارت منعکس کرنے والی تہہ چڑھانا، ہوا کی آمدورفت بہتر بنانا اور چھتوں پر سایہ فراہم کرنا جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان کا مقصد عمارتوں کے اندر درجہ حرارت کم کرنا اور شدید گرمی کے اثرات سے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

کراچی کی شہری تجربہ گاہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ 60 برسوں کے دوران شہر کے دن کے درجہ حرارت میں 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ رات کے درجہ حرارت میں 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں شہریوں کی صحت، توانائی کی ضروریات اور روزمرہ زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات بھی زیر بحث آئے۔
شرکا نے اس بات پر بھی گفتگو کی کہ کراچی کے بعض علاقوں میں روزانہ تقریباً 10 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ شہریوں کے لیے شدید گرمی کے دوران مشکلات بڑھا دیتی ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پنکھوں، ایئر کولرز اور دیگر ذرائع سے ٹھنڈک حاصل کرنے کی سہولت محدود ہوجاتی ہے، جس سے گرمی کی لہروں کے دوران شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
نشست میں عمارتوں میں توانائی کے مؤثر استعمال، توانائی کی بچت سے متعلق 2023 کے ضوابط اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے تعمیراتی قوانین کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ کراچی کے لیے تیار کیے گئے مجوزہ کولنگ پلان پر گفتگو ہوئی، جس کی تیاری میں محکمہ موسمیات، شعبہ صحت عامہ، شہری منصوبہ بندی کے ماہرین، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں نے تعاون کیا۔
مجوزہ منصوبے میں کراچی کے ماسٹر پلان 2047 کے تناظر میں شہر میں 10 ہزار شہری جنگلات قائم کرنے، بروقت انتباہی نظام بہتر بنانے، شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے صحت کے مراکز تیار کرنے اور مقامی آبادیوں کو کم خرچ پر ٹھنڈک کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کولنگ مراکز قائم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد گرمی کی لہروں کے خطرات کم کرنا اور شہریوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ہے۔
تربیتی نشست کے اختتام پر صحافیوں نے شدید گرمی کے صحت عامہ پر اثرات، بچوں، خواتین، بزرگوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے محنت کشوں کو لاحق خطرات سے متعلق سوالات کیے۔ یاسر حسین نے شرکا کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے اور مختلف پہلوؤں پر رہنمائی فراہم کی۔
کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی اور کراچی سینٹر ایکشن کلائمیٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں موسمیاتی مسائل کی رپورٹنگ کو بہتر بنانے اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
کراچی سینٹر ایکشن کلائمیٹ کے بارے میں
کراچی سینٹر ایکشن کلائمیٹ کراچی میں قائم ایک مرکز ہے جو موسمیاتی آگاہی، عوامی و سماجی اقدامات اور ماحولیاتی انصاف کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ شہریوں، نوجوانوں، مقامی برادریوں، ذرائع ابلاغ، تعلیمی اداروں اور نچلی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ مل کر توانائی تک منصفانہ رسائی اور موسمیاتی انصاف کے لیے سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ اس کے کام میں عوامی اجتماعات، قانونی اقدامات، کراچی کے موسمیاتی عملی منصوبے اور گریٹر کراچی کے علاقائی منصوبوں سمیت شہری ترقی سے متعلق سرگرمیاں شامل ہیں۔
