OIC ministerial conference session in Islamabad.

اسلام آباد: خواتین کی ترقی اور بااختیار بنانے کے لیے او آئی سی (OIC) کانفرنس کا دوسرا روز، اہم فیصلے متوقع!

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026

مسلم امہ کی نمائندہ تنظیم ‘اسلامی تعاون تنظیم’ (OIC) کے زیرِ اہتمام ‘خواتین کے لیے نویں وزارتی کانفرنس’ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسلسل دوسرے روز بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جس میں مسلم دنیا کی خواتین کی سماجی و اقتصادی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے حوالے سے انتہائی اہم اسٹریٹجک امور پر غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے وزراء، سفارت کاروں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے وفود بڑی تعداد میں شریک ہیں، جو مسلم معاشروں میں خواتین کے بنیادی کردار کو مزید اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔

کانفرنس کے پہلے روز کے ایجنڈے کے مطابق، مختلف اعلیٰ سطح کے تکنیکی سیشنز کا انعقاد کیا گیا جس میں نہ صرف کانفرنس کے آفیشل ایجنڈے کی متفقہ منظوری دی گئی بلکہ ‘خواتین کی ترقی کے لیے او آئی سی پلان آف ایکشن’ پر عملدرآمد کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ کانفرنس کے اہم ترین سائیڈ لائنز (ملاقاتوں) کا احوال بتاتے ہوئے حکام نے بتایا کہ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انتہائی مصروف دن گزارا اور انہوں نے ایران، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، بوسنیا و ہرزیگووینا، شام، صومالیہ اور یمن سے آئے ہوئے ہم منصب وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام سے الگ الگ اہم ترین ملاقاتیں کیں، جس میں خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

آج دوسرے روز کے سیشنز میں ان سفارتی ملاقاتوں کے تسلسل کے ساتھ ساتھ او آئی سی لیبر سینٹر اور خواتین کی ترقی کی دیگر عالمی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جا رہے ہیں، تاکہ مسلم دنیا کی ورکنگ ویمن کے لیے محفوظ ماحول اور روزگار کے یکساں مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزارتِ انسانی حقوق کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ ‘اسلام آباد ڈیکلریشن’ (اعلامیہ) بھی جاری کیا جائے گا، جو مستقبل میں مسلم ممالک کے اندر خواتین کو جدید تعلیم، صحت اور کاروباری دنیا (انٹرپرینیورشپ) میں آگے لانے کے لیے ایک قانونی اور اخلاقی فریم ورک فراہم کرے گا، جس کی کامیابی کے لیے تمام رکن ممالک پرعزم ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں