الیکٹرک بائیک اور سکوٹی صارفین کے لیے اہم الرٹ: ٹرانسفارمر اور بجلی کی ڈی بی کے قریب پارکنگ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے

کراچی ( ویب ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ماحولیاتی آلودگی کے پیشِ نظر الیکٹرک بائیک اور سکوٹی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جہاں یہ سواریاں جیب پر ہلکی اور ماحول دوست ہیں، وہاں ان کے استعمال اور دیکھ بھال کے حوالے سے چند ایسی احتیاطی تدابیر بھی ہیں جن سے لاپرواہی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ماہرین اور الیکٹرک وہیکل (EV) مینوفیکچررز کی جانب سے صارفین کو ایک خاص تنبیہ جاری کی جا رہی ہے: “اپنی الیکٹرک بائیک یا سکوٹی کو کبھی بھی بجلی کے بڑے ٹرانسفارمر یا مین ڈسٹری بیوشن بورڈ (DB) کے قریب پارک نہ کریں۔”

بجلی کے ٹرانسفارمر اور ڈی بی کے قریب پارکنگ کیوں خطرناک ہے؟
الیکٹرک بائیک کی ساخت روایتی پیٹرول بائیک سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کا قلب اس کی “لیتھیم آئن” (Lithium-ion) بیٹری ہے۔ یہ بیٹریاں انتہائی حساس ہوتی ہیں اور بیرونی عوامل سے جلد متاثر ہو سکتی ہیں۔ بجلی کے ٹرانسفارمرز اور مین ڈی بی بورڈز کے گرد ایک طاقتور الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ (Electromagnetic Field) موجود ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس فیلڈ کی موجودگی اور ٹرانسفارمر سے خارج ہونے والی حرارت بیٹری کے اندرونی کیمیائی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
اگر کسی وجہ سے ٹرانسفارمر میں شارٹ سرکٹ ہو یا وولٹیج میں اچانک اضافہ (Voltage Spike) ہو، تو قریبی کھڑی الیکٹرک بائیک کی بیٹری اس توانائی کو جذب کر کے “تھرمل رن وے” (Thermal Runaway) کی حالت میں جا سکتی ہے، جس کا نتیجہ خوفناک آگ یا دھماکے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
بیٹری کی حساسیت اور بیرونی خطرات
الیکٹرک اسکوٹی کی بیٹریاں خاص طور پر گرمی اور ہائی وولٹیج تاروں کے قریب رہنے سے “اوور ہیٹ” ہو جاتی ہیں۔ ٹرانسفارمرز کے پاس اکثر تیل کی موجودگی اور ہائی وولٹیج کرنٹ کا گزر ہوتا ہے۔ اگر وہاں کوئی معمولی سی چنگاری بھی پیدا ہو تو بائیک میں موجود بیٹری اسے ایندھن کا کام دیتے ہوئے شدت اختیار کر لیتی ہے۔ یاد رہے کہ لیتھیم بیٹری کی آگ عام آگ کے مقابلے میں بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ کیمیائی طور پر اپنی آکسیجن خود پیدا کرتی ہے۔


خریداروں کے لیے ضروری ہدایات
جب بھی آپ الیکٹرک بائیک خریدیں تو کمپنی کی جانب سے دی گئی حفاظتی گائیڈ بک کا مطالعہ ضرور کریں۔ ڈیلرز کی جانب سے یہ واضح ہدایت دی جاتی ہے کہ:
محفوظ پارکنگ کا انتخاب: ہمیشہ اپنی بائیک کو کسی سایہ دار اور کھلی جگہ پر پارک کریں جہاں بجلی کی مین لائنز یا ٹرانسفارمر موجود نہ ہوں۔
چارجنگ میں احتیاط: بائیک کو چارج کرتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ ساکٹ معیاری ہو اور تاروں میں جوڑ نہ ہو۔ ڈی بی بورڈ کے بالکل نیچے چارجنگ پوائنٹ لگانے سے گریز کریں۔
موسمی اثرات: بارش کے موسم میں ٹرانسفارمر کے نیچے کھڑے پانی میں بائیک پارک کرنا خودکش حملے کے مترادف ہو سکتا ہے، کیونکہ پانی کرنٹ کا بہترین موصل ہے اور بیٹری تک کرنٹ پہنچنے کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔
احتیاط ہی بچاؤ ہے
سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر اکثر الیکٹرک گاڑیوں میں آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر واقعات کی وجہ ناقص وائرنگ یا غلط جگہ پر پارکنگ ہوتی ہے۔ الیکٹرک بائیک کے مالکان کو چاہیے کہ وہ صرف پیٹرول بچانے پر توجہ نہ دیں بلکہ اپنی اور دوسروں کی زندگی کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔
بجلی کے ٹرانسفارمر یا ڈی بی کے پاس بائیک کھڑی کرنا نہ صرف آپ کی قیمتی سواری کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتا ہے بلکہ قریبی عمارتوں اور راہگیروں کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ لکھیں