کراچی (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
شہرِ قائد کے پوش علاقوں اور بینکوں سے بھاری رقوم نکلوا کر نکلنے والے شہریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بننے والا ایک انتہائی منظم اور شاطر ڈکیتی گینگ اب قانون کے شکنجے میں آ چکا ہے۔ کراچی کی فیروز آباد پولیس نے ایک خفیہ اور انتہائی کامیاب ترین کارروائی کے دوران بینکوں کے اندر معصوم شہریوں کا روپ دھار کر ریکی کرنے والے 60 سالہ معمر اور بزرگ ملزم محمد منگی کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نظیر شیخ کے مطابق، یہ بزرگ ملزم کوئی عام شہری نہیں بلکہ بینک ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کرنے والے ایک انتہائی خطرناک چار رکنی منظم گینگ کا ماسٹر مائنڈ اور مرکزی مخبر تھا، جو بڑی رقوم نکلوانے والوں کی ٹپ اپنے مسلح ساتھیوں کو دیتا تھا۔
پولیس حکام نے حالیہ مہینوں میں شہر میں بڑھتی ہوئی ‘بینک ریکی ڈکیتیوں’ کی سائنسی اور جدید خطوط پر تفتیش شروع کی تو سی سی ٹی وی فوٹیجز کے گہرے معائنے سے یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ ایک بزرگ شخص ہر واردات سے قبل مختلف بینکوں کے اندر مشکوک انداز میں گھومتا نظر آتا ہے۔ ملزمان نے اس 60 سالہ ملزم کو صرف اس لیے گینگ میں شامل کیا تھا تاکہ سفید داڑھی اور ضعیف العمری کے باعث سیکیورٹی گارڈز یا بینک عملے کو اس پر کوئی شک نہ ہو۔ جیسے ہی کوئی شہری لاکھوں روپے کی کیش رقم نکلوا کر بینک سے باہر نکلتا، یہ بزرگ ملزم فوری طور پر باہر کھڑے اپنے موٹر سائیکل سوار مسلح ساتھیوں کو فون یا اشارے سے حلیہ بتاتا، جو آگے جا کر اسلحے کے زور پر شہری کو لوٹ لیتے تھے۔
پولیس کی جانب سے حاصل کردہ متعدد سی سی ٹی وی فوٹیجز میں اس بزرگ ملزم کو بینکوں کے اندر اور اس کے ساتھیوں کو ڈکیتی کے مقامات پر دیکھا جا سکتا ہے۔ دورانِ تفتیش گرفتار ملزم محمد منگی نے سنسنی خیز اعترافات کرتے ہوئے درجنوں ہائی پروفائل وارداتوں کا اعتراف کیا ہے، جس میں سب سے بڑا انکشاف یہ ہوا کہ اسی بزرگ ملزم نے دو سال قبل کراچی پولیس کے ایک ڈی ایس پی (DSP) کی ریکی کر کے انہیں 8 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے محروم کروایا تھا۔ فیروز آباد پولیس کے مطابق، ملزم کا پرانا مجرمانہ ریکارڈ بھی انتہائی خوفناک ہے اور وہ ماضی میں ڈکیتی کے دوران ایک شہری کے قتل کے مقدمے میں بھی ملوث رہ چکا ہے، پولیس نے مقدمہ درج کر کے گینگ کے دیگر فرار ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔
