امن وامان کی بہتری کے بغیر صنعت و تجارت کو فروغ دینا ممکن نہیں، جاوید عالم اوڈھو

ایس ایم تنویر ، ثاقب فیاض مگوں کی سندھ حکومت کی پالیسی، آئی جی سندھ کی قائدانہ صلاحیتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کوششوں کی تعریف

فیڈریشن ہاﺅس میں عبدالمہومن خان ،میاں زاہد حسین ، خالد تواب ، امان پراچہ ، اکرام راجپوت اور آصف سخی بھی موجود ، پولیس افسر پیر محمد شاہ ، ایس ایس پی ساﺅتھ بھی ہمراہ

کراچی (علیم نواب خان سے)

انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کی مرکزی دفتر کا دورہ کیا، جہاں سینئر نائب صدر اور دیگر عہدیداروں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ تقریب میں پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر، سینئر نائب صدر ثاقب مگوں، عبدالمومن خان، عارف سکھی، امان پراچہ، اکرام راجپوت، حنیف گوہر، میاں زاہد، خالد امین، خالد تواب سمیت مختلف شہروں کی تاجر تنظیموں کے نمائندوں، خواتین تاجروں، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی، ایس ایس پی ساتھ اور ایس ایس پی میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز نے شرکت کی۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنماں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران تاجر برادری نے صوبے بالخصوص کچے کے علاقوں میں امن و امان کے قیام، ہائی ویز کی سیکیورٹی اور جرائم کے خلاف موثر کارروائیوں پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور سندھ پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔

تاجروں کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقوں میں آپریشن کے بعد سندھ کی شاہراہیں محفوظ ہو چکی ہیں جبکہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاجر رہنماں نے کہا کہ سندھ حکومت کی پالیسی، آئی جی سندھ کی قائدانہ صلاحیتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کوششوں سے کچے کے علاقوں میں ڈاکوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ ممکن ہوا۔ انہوں نے منشیات مافیا کے خلاف جاری کارروائیوں، اسمارٹ سگنلز، سیف سٹی کیمروں اور جدید پولیسنگ نظام کو بھی سراہا۔ اس موقع پر تاجروں نے پولیس اور تاجر برادری کے درمیان تعاون کو مزید موثر بنانے کے لیے مختلف شہروں میں فوکل پرسنز مقرر کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب شہری سگنلز پر بلا خوف رکتے ہیں اور تاجر برادری بھی شاہراہوں پر زیادہ تحفظ محسوس کر رہی ہے۔ خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم او ڈھونے کہا کہ امن وامان کی بہتری کے بغیر صنعت و تجارت کو فروغ دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں کو اغواءبرائے تاوان، بھتہ خوری اور سنگین جرائم سے پاک کرنے کے لیے آپریشن نجات مہران شروع کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس نے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بھر پور کارروائیاں کیں اور 1700 سے زائد جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق منشیات کے عادی افراد کے خلاف صرف کارروائی نہیں بلکہ ان کی بحالی کے لیے سندھ حکومت بحالی مرا کز بھی قائم کر رہی ہے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی میں تاجر برادری کے تعاون سے 40 ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ہیں،جن سے کرائم ڈیٹیکشن میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ سیف سٹی پروجیکٹ فیز ٹو بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اب کوئی نوگوایریا موجود نہیں اور ریاست کی عملداری ہر علاقے میں قائم کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھانہ کلچر کی بہتری، الیکٹرانک سرد بیلنس اور تعلیم یافتہ افسران کی شمولیت سے پولیسنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جارہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے تاجر فوکل پرسنز میں اسناد بھی تقسیم کیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں