نیویارک (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید ترین جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں زلزلہ آ گیا ہے، جہاں امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں نے اچانک سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی رئیل اسٹیٹ اور کموڈٹی مارکیٹ کی میڈیا رپورٹس کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یکمشت 3 فیصد سے زائد کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 2.67 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 78.68 ڈالر فی بیرل کی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس اچانک تیزی کی سب سے بڑی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر دوبارہ کیے جانے والے فضائی حملے اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کے بند ہونے یا ترسیل متاثر ہونے کے سنگین خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
توانائی کے عالمی ماہرین اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک خطے میں جنگی حالات کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور بڑی آئل کمپنیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں سپلائی اور تجارت ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ (20 فیصد) اسی آبنائے ہرمز کے تنگ بحری راستے سے گزرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس راستے پر معمولی سی کشیدگی بھی عالمی سپلائی چین پر شدید دباؤ ڈال دیتی ہے۔ یہ حالیہ اضافہ ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، جس کا مقصد امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی اور شہری بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے، تاہم اس کے الٹ اثرات مارکیٹ پر نظر آ رہے ہیں۔
دوسری جانب، عالمی اقتصادی ماہرین نے خطرے کی بڑی گھنٹی بجاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ مسلح کشیدگی طول پکڑتی ہے، تو اس کے ہولناک اثرات صرف خام تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل مہنگا ہونے سے دنیا بھر میں مال برداری کے اخراجات (Freight Charges)، توانائی کے نرخ اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جو بالآخر عالمی معیشت کو ایک نئی کساد بازاری اور ترقی پذیر ممالک کو مہنگائی کے شدید طوفان کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نبرد آزما ہیں، ان کے لیے عالمی مارکیٹ کا یہ نیا رجحان آنے والے دنوں میں پٹرول مزید مہنگا ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
