اسلام آباد (ویب ڈیسک) 12 جولائی 2026
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے روزگار کے سنہرے خواب آنکھوں میں سجا کر موت کے راستے یعنی ‘ڈنکی’ کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپی ممالک جانے والے معصوم شہریوں کے حوالے سے انتہائی لرزہ خیز، ہولناک اور افسوسناک آفیشل دستاویزات جاری کر دی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کی جانب سے حاصل کردہ ایف آئی اے کی ان خفیہ دستاویزات کے مطابق، گزشتہ چند برسوں کے دوران سمندر کے راستے یونان اور لیبیا کے پانیوں میں پیش آنے والے 7 مہلک ترین کشتی حادثات میں اب تک کم از کم 335 پاکستانی نوجوان اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ متعدد خاندان تاحال اپنے پیاروں کی لاشوں کے بھی منتظر ہیں۔
ایف آئی اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جون 2023 سے لے کر اب تک کے عرصے میں انسانی اسمگلروں کے خطرناک نیٹ ورک کی مجرمانہ غفلت کے باعث 7 بڑے سانحات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جون 2023 میں یونان کی حدود میں پیش آنے والا یہ تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ تھا، جہاں ایک خستہ حال اوور لوڈڈ کشتی ڈوبنے سے اس میں سوار 226 پاکستانیوں میں سے 207 جاں بحق ہو گئے تھے اور محض 19 افراد ہی معجزانہ طور پر زندہ بچ پائے تھے۔ اس کے بعد دسمبر 2024 میں سمندر کی تیز لہروں کے باعث ایک اور مسافر کشتی الٹنے سے اس پر سوار 69 پاکستانی متاثر ہوئے، جن میں سے 25 نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہوئے جبکہ 44 کو کوسٹ گارڈز نے زندہ بچایا۔ جنوری 2025 میں مراکش کے ساحل کے قریب پیش آنے والے حادثے میں 70 پاکستانی متاثر ہوئے، جبکہ فروری 2025 میں لیبیا کے سمندر میں ڈوبنے والی کشتی میں 40 پاکستانیوں کی آفیشل شناخت ہوئی، جن میں سے 23 جاں بحق اور 13 زندہ بچے۔
دستاویزات کے مطابق، فروری، اپریل اور اکتوبر 2025، جبکہ حال ہی میں اپریل 2026 میں لیبیا سے ڈنکی لگاتے ہوئے سمندر میں کشتی ڈوبنے کے 4 مزید بڑے حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان چاروں حالیہ واقعات میں مجموعی طور پر 102 پاکستانی سوار تھے، جن میں سے 71 نوجوان سمندری لہروں کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار گئے، جبکہ صرف 30 افراد کو ہی کوسٹ گارڈز ریسکیو کرنے میں کامیاب رہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ان دلدوز سانحات کے بعد ملک بھر میں گوجرانوالہ، گجرات، اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں سرگرم ڈنکی لگانے والے ایجنٹوں اور بڑے انسانی اسمگلرز کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے نوجوانوں اور ان کے والدین سے سخت اپیل کی ہے کہ وہ ان لٹیروں اور مافیا کے جھانسے میں آ کر لاکھوں روپے برباد کرنے اور موت کے کنویں میں چھلانگ لگانے سے گریز کریں، کیونکہ اسمگلرز صرف پیسے بٹورنے کے لیے معصوم شہریوں کو بھیڑوں بکریوں کی طرح غیر محفوظ لانچوں میں بھر کر موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔
