اسلام آباد میں لڑکا لڑکی کا بائک پر تماشا: موٹر سائیکل کے فرنٹ پر لڑکی کو بٹھا کر خطرناک ون ویلنگ، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان!

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 10 جون 2026

وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کی حدود میں واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے شہریوں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان کو انتہائی ڈھٹائی اور بے خوفی کے ساتھ ایک لڑکی کو موٹر سائیکل کے فرنٹ موٹر گارڈ پر بٹھا کر ون ویلنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ منظر نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا ایک ایسا شرمناک کھیل ہے جس نے ہر دیکھنے والے کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔

خطرناک تماشا اور سڑک پر موجود ٹریفک
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی، جو موٹر سائیکل کے فرنٹ گارڈ پر بیٹھی ہے، اپنے دونوں ہاتھوں سے ہینڈل تھامے ہوئے ہے اور ون ویلنگ کے دوران ایک ہاتھ سے اشارے بھی کر رہی ہے۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت ایک مصروف شاہراہ پر کی گئی، جہاں سے دیگر گاڑیاں اور ٹریفک کا بہاؤ معمول کے مطابق جاری تھا۔ اگر تھوڑی سی بھی غلطی ہوتی تو یہ خونی تماشا ایک بڑے حادثے میں بدل سکتا تھا جس میں دونوں کی جانیں جا سکتی تھیں۔ ویڈیو کے پس منظر میں دیگر موٹر سائیکل سواروں کو بھی اس خطرناک منظر کا مشاہدہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جو اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔

پولیس کی کارکردگی اور ملزم کی فرار
ویڈیو وائرل ہونے کے باوجود وفاقی پولیس کی گرفتاریوں میں تاخیر نے کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایس ایچ او لوئی بھیر کا کہنا ہے کہ پولیس نے موٹر سائیکل کا نمبر ٹریس کر لیا ہے اور ملزم کی شناخت بھی کر لی گئی ہے، لیکن وہ شہر میں موجود نہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزم کو جلد تحویل میں لے لیا جائے گا۔ تاہم، عوام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات اور جدید کیمروں کے باوجود ملزم کا فرار ہونا انتظامیہ کی ناکامی ہے۔

سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل
اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے کیونکہ یہ سڑکوں پر دوسرے شہریوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ اس سے قبل بھی ون ویلنگ کے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں نوجوانوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں، مگر اس بار ایک لڑکی کو ساتھ بٹھا کر یہ کام کرنا معاشرتی اقدار کی بھی پامالی ہے۔ حقوقِ نسواں کی تنظیموں اور والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے تاکہ دوبارہ کوئی اس طرح کی حماقت کرنے کی جرات نہ کرے۔

کیا پولیس کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچا سکے گی؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پولیس ملزم کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لاتی ہے یا یہ کیس بھی دیگر مقدمات کی طرح سرد خانے کی نذر ہو جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر کا سدِباب کریں جو اپنی وقتی شہرت اور سنسنی کے لیے دوسروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ ون ویلنگ پر پہلے ہی پابندی ہے، مگر ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اندر ہونے والی ایسی کارروائیاں انتظامیہ کی سیکیورٹی پر بھی سوال اٹھاتی ہیں کہ آخر نجی سوسائٹی کے اندر اتنی بڑی خلاف ورزی کیسے ممکن ہوئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں