وفاقی حکومت نے یومیہ قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے 29 جولائی 2026 کے لیے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے طے کردہ نئے پرائسنگ میکانزم کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے تناظر میں پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتوں میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس نئے اضافے سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتیں مزید اوپر چلی گئی ہیں جس کا براہِ راست اثر عام عوام پر پڑے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1 روپیہ 63 پیسے کا مزید اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 335 روپے 81 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 1 روپیہ 55 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی فی لیٹر قیمت 386 روپے 83 پیسے سے بڑھ کر 388 روپے 38 پیسے کی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ان نئی قیمتوں کا باقاعدہ اطلاق 29 جولائی کی رات 12 بجے سے آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے ہوگا۔
یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ روز یعنی 28 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت میں محض 1 روپے کی معمولی کمی کر کے اسے 334 روپے 18 پیسے کیا تھا جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے تین روپے سے زائد کا اضافہ کیا تھا۔ تاہم اگلے ہی دن پیٹرول میں دی گئی معمولی ریلیف کو واپس لیتے ہوئے قیمت دوبارہ بڑھا دی گئی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں اور شہریوں کا ماننا ہے کہ یومیہ پرائسنگ سسٹم کے نفاذ کے بعد روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کے ریٹ تبدیل ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
