قبروں اور ہسپتال سے انسانی اعضا جمع کرکے کھانے والا سفاک شخص گرفتار!

بوڈاپیسٹ (ویب ڈیسک) 23 جون 2026

ہنگری میں پولیس نے ہولناک ترین کارروائی کرتے ہوئے انسانی جسم کے اعضاء چوری کرنے اور انہیں پکا کر کھانے والے ایک 30 سالہ سفاک شخص کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں کا سنسنی خیز انکشافات میں کہنا ہے کہ ملزم لاوارث قبروں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس ہسپتال سے بھی انسانی اعضاء چوری کرتا تھا جہاں وہ خود ملازمت کرتا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے منظرِ عام پر آتے ہی پورے ملک میں شدید خوف و ہراس اور سنسنی پھیل گئی ہے۔

ہنگری کے نیشنل بیورو آف انویسٹی گیشن کو ملزم کی اس گھناؤنی سرگرمی کے بارے میں 17 جون کو دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کو اس کے اپارٹمنٹ سے اس وقت دھر لیا جب وہ چوری کیے گئے اعضاء کو گھر پر محفوظ کر رہا تھا۔ پولیس حکام نے اپنے آفیشل بیان میں تصدیق کی ہے کہ گرفتار کیا گیا شخص مقامی ہسپتال میں بطور سپورٹ ورکر ملازم ہے، اور اسی ملازمت کا فائدہ اٹھا کر وہ انسانی اعضاء تک رسائی حاصل کرتا تھا۔

ملزم کے اپارٹمنٹ کی تلاشی کے دوران تفتیش کاروں کو انتہائی خوفناک مناظر کا سامنا کرنا پڑا، جہاں سے ایک انسانی کھوپڑی، ایک مکمل نچلی ٹانگ، اور ایک ہاتھ برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ ملزم کے قبضے سے انسانی چہرے کی جلد سے تیار کردہ ایک ہولناک نقلی چہرہ بھی ملا، جبکہ انسانی جسم کی دیگر ہڈیاں ایک سوٹ کیس میں چھپائی گئی تھیں۔ تلاشی کے دوران ایک جار (مرتبان) میں محفوظ کیا گیا دل بھی برآمد ہوا ہے، جس کے بارے میں فرانزک پولیس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ کسی انسان کا ہے یا جانور کا۔

پولیس کی سخت پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اپنے تمام گھناؤنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ کافی عرصے سے انسانی جسم کے اعضاء کی طرف ایک پراسرار اور غیر قدرتی میلان رکھتا ہے، اسی لیے وہ انہیں اکٹھا کرتا تھا۔ ملزم نے یہ بھی مانا کہ وہ ان چوری شدہ انسانی اعضاء سے مختلف کھانے تیار کرکے کھا چکا ہے۔ پولیس نے ملزم کو ریمانڈ پر جیل منتقل کرکے واقعے کی مزید گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں