قائدآباد کراچی: 3 سالہ بچی کلثوم سے درندگی کا ہولناک واقعہ، پوسٹ مارٹم میں جنسی تشدد کی تصدیق

کراچی (کرائم ڈیسک) 24 جون 2026

کراچی کے علاقے قائدآباد سے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک بوری سے 3 سالہ معصوم بچی کلثوم کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔ اس اندوہناک واقعے نے ایک بار پھر پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ہر آنکھ اس معصوم کلی کے بے رحمانہ قتل پر اشکبار ہے۔

پوسٹ مارٹم کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے تصدیق کی ہے کہ معصوم بچی کو قتل سے قبل انتہائی بے دردی سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین کرنے کے لیے مختلف نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں اور کیمیائی تجزیے (کیمیکل ایگزامن) کی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی، تب تک کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔

واقعاتِ سحر کا پسِ منظر:

پولیس حکام کے مطابق، متاثرہ خاندان ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر ہے جہاں کئی دیگر افراد بھی ساتھ رہتے ہیں۔ بچی دوپہر تقریباً 12 بجے کے قریب اچانک لاپتہ ہوئی تھی، تاہم گھر والوں نے اس دوران پولیس کو باقاعدہ مطلع نہیں کیا۔ بعد ازاں، رات کے وقت معصوم کلثوم کی لاش اسی گھر کے مرکزی گیٹ کے قریب سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس درندگی میں ملوث سفاک مجرموں کو بے نقاب کیا جا سکے۔

معاشرے کے مختلف حلقوں، سوشل میڈیا صارفین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب معصوم بچوں پر ایسا ظلم ہو اور معاشرہ خاموش رہے تو انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے درندہ صفت مجرموں کو کڑی اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی ایسی وحشیانہ حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں