کراچی: ویب ڈیسک
تاریخ: 27 جون، 2026
شمالی پاکستان اور وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بڑے حصوں میں آج شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کا سب سے زیادہ اثر پشاور میں دیکھنے میں آیا جہاں خیبرپختونخوا اسمبلی کے جاری بجٹ سیشن کے دوران شدید جھٹکوں سے ایوان میں بھگدڑ مچ گئی۔ جیسے ہی زمین لرزنا شروع ہوئی، اسمبلی اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں باہر کی طرف بھاگنے لگے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے فوری طور پر اجلاس کو 5 منٹ کے لیے مؤخر کر دیا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز افغانستان کا ہندوکش ریجن تھا۔ زلزلے کی گہرائی 178 کلومیٹر تھی جس کی وجہ سے اس کے جھٹکے کافی وسیع رقبے پر محسوس کیے گئے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع جن میں پشاور، سوات، باجوڑ، چارسدہ، دیر لوئر، صوابی، تخت بھائی، کوہاٹ اور مانسہرہ شامل ہیں، زلزلے کی شدت سے لرز اٹھے۔ عمارتوں کے ہلنے اور سامان کے گرنے کے مناظر سے شہری دہشت زدہ ہو گئے۔
زلزلے کے جھٹکے صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہے بلکہ پنجاب کے بڑے شہروں بشمول لاہور، فیصل آباد، اٹک، چکوال، میانوالی، ملتان اور پوٹھوہار ریجن کے علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے بعد صوبائی کنٹرول روم اور ضلعی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو 24/7 فعال کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مختلف شہروں میں عمارتوں کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کا فوری اندازہ لگایا جا سکے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک ملک کے کسی بھی حصے سے زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال یا نقصان کی اطلاع کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر فوری رابطہ کریں۔ زلزلے کے بعد متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔