اسلام آباد، ہفتہ وار سستا بازار میں ہولناک آتشزدگی سے 335 دکانیں اور اسٹالز جل کر خاکستر!

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 24 جون 2026وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ نائن ($H-9$) میں واقع ہفتہ وار سستا بازار میں اچانک لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں 335 دکانیں اور اسٹالز جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے بازار کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو گھنٹوں طویل جدوجہد کرنی پڑی۔ریسکیو ذرائع کے مطابق، ابتدائی طور پر صرف 70 سے زائد دکانوں کے متاثر ہونے کی اطلاع ملی تھی، لیکن تیز ہواؤں اور مارکیٹ میں موجود کپڑوں و دیگر آتش گیر مواد کے باعث آگ تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔ ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی سے بھی اضافی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں کے لیے طلب کیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بازار کے مجموعی طور پر 9 سیکشنز متاثر ہوئے، جن میں سے کڑی مشقت کے بعد 7 سیکشنز پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے اور اب تک تقریباً 80% فیصد آگ بجھائی جا چکی ہے۔ خوش قسمتی سے اس بڑے حادثے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، تاہم تاجروں کا کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا ہے۔دوسری جانب، متاثرہ تاجروں نے انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاجروں کا مؤقف ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں وقت پر نہیں پہنچیں اور بازار کے اندر آگ بجھانے کے حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص تھے۔ بازار کے صدر عبدالرحمان خان نے اس واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ کسی سازش کا نتیجہ ہو سکتا ہے،

اس لیے معاملے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کی جائیں۔سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسے انتظامیہ کی کھلی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بازار میں بار بار آگ لگنے کے واقعات رونما ہونا انتظامی کوتاہی پر بڑے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہاں مستقل بنیادوں پر حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں اور غریب تاجروں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ ضلعی انتظامیہ نے آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں