کراچی: ویب ڈیسک
تاریخ: 27 جون، 2026
تفریح کے لیے جانے والے دو نوجوانوں کی زندگی حب ندی کی بے رحم لہروں کی نذر ہو گئی۔ کراچی سے حب ندی پکنک منانے کے غرض سے جانے والے دو نوجوان پانی کی گہرائی کا اندازہ نہ کر سکے اور نہاتے ہوئے ڈوب کر ابدی نیند سو گئے۔ جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کی شناخت 21 سالہ احسن، جن کا تعلق نیول کالونی سے تھا، اور 25 سالہ شمیم، جو بھیم پورہ کے رہائشی تھے، کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں دوست اپنی خوشگوار چھٹی منانے کے لیے ندی کے کنارے پہنچے تھے، مگر کچھ ہی دیر بعد یہ دن ان کے خاندانوں کے لیے قیامت خیز ثابت ہوا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے رضا کاروں نے اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا اور دونوں نوجوانوں کی لاشیں حب ندی سے نکال کر حب سول اسپتال منتقل کیں۔ اسپتال میں ضروری قانونی و طبی کارروائی مکمل کرنے کے بعد، ایدھی کے رضا کاروں نے دونوں متوفین کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کراچی پہنچا دیں۔ اپنے پیاروں کی لاشیں دیکھ کر ورثا اور اہل خانہ کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے گئے، جبکہ علاقے میں سوگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق حب ندی میں نہانے پر پابندی کے باوجود نوجوانوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنا ایسے سانحات کا سبب بنتا ہے۔ حکام کی جانب سے بارہا شہریوں کو خبردار کیا جاتا رہا ہے کہ ندی نالوں اور گہرے پانیوں میں نہانے سے گریز کیا جائے، کیونکہ یہاں پانی کی گہرائی اور بہاؤ کا اندازہ لگانا عام شہریوں کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ بدقسمتی سے، اس بار بھی احتیاط کی کمی نے دو نوجوانوں کی زندگیاں چھین لیں۔
اس المناک واقعے کے بعد شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پکنک پوائنٹس کے طور پر مشہور ان خطرناک مقامات پر انتظامیہ کی جانب سے سخت نگرانی کی جائے اور لوگوں کو پانی میں اترنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اس سے قبل بھی حب ندی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ڈوبنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم سیکیورٹی اور آگاہی کی کمی کے باعث اس طرح کے سانحات کا تسلسل برقرار ہے۔