کراچی (کرائم رپورٹر) 24 جون 2026
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن (مومن آباد) میں گھر کے باہر نامعلوم مسلح ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد مختلف پہلوؤں پر تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، مقتول کی شناخت 27 سالہ محمد حذیفہ صدیقی کے نام سے ہوئی ہے، جو مومن آباد سیکٹر 4 ایف (بلاک ڈی) کا رہائشی تھا اور پیشے کے لحاظ سے ٹریول ایجنسی کا مالک تھا۔ ایس ایچ او مومن آباد شہباز یوسف نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حذیفہ ایک آلٹو کار میں اپنے ڈرائیور کے ہمراہ جیسے ہی گھر پہنچا، تو وہاں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے مسلح ملزمان نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔
ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ 2 سے 3 حملہ آور مقتول کی گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچے تھے۔ فائرنگ گاڑی کی ڈرائیونگ سائیڈ سے کی گئی، جبکہ حذیفہ اس وقت کار کی پچھلی نشست پر سوار تھا۔ فائرنگ کے نتیجے میں مقتول کے دائیں بازو پر دو اور سینے پر ایک گولی لگی، جس کے باعث شدید زخمی ہو کر وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے دو خول قبضے میں لے لیے ہیں اور ملزمان کی شناخت کے لیے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں۔
دورانِ تفتیش یہ ہولناک انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ مقتول حذیفہ پر یہ دوسرا جان لیوا حملہ تھا۔ اس سے قبل حالیہ رمضان المبارک کے دوران بھی سائٹ ایریا میں ان پر فائرنگ کی گئی تھی، جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے اور اس واقعے کا مقدمہ بھی درج ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے واقعے اور حملے کے طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے بظاہر یہ معاملہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی صورتحال واضح ہو سکے گی۔