کراچی (ویب ڈیسک) 8 جولائی 2026
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لانے کا پُرشور مطالبہ کرتے ہوئے سندھ حکومت کو کڑی وارننگ دے دی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اگر 16 جولائی 2026 تک اس سانحے کی جوڈیشنل کمیشن رپورٹ کو پبلک نہ کیا گیا، تو وہ انصاف کے حصول کے لیے ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے سندھ حکومت کی نیت پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے یہ چبھتا ہوا سوال اٹھایا کہ “آخر اس حساس رپورٹ میں ایسے کون سے بااثر پردہ نشیں اور بڑے نام شامل ہیں جنہیں بچانے اور چھپانے کے لیے پوری صوبائی انتظامیہ دن رات ایک کر رہی ہے؟”
ڈاکٹر فاروق ستار نے صوبائی محکموں کی غیر سنجیدگی کا پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے مسلسل سندھ انفارمیشن کمیشن میں پیش ہو رہے ہیں تاکہ اس رپورٹ تک رسائی حاصل کی جا سکے، مگر سیکریٹری داخلہ سندھ خود آنے کے بجائے انتہائی غیر سنجیدہ اور جونیئر ملازمین کو کمیشن میں بھیج دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف محکمہ قانون سندھ اس پورے معاملے پر اپنی روایتی بے بسی کا راگ الاپ رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ اپنی انکوائری رپورٹ سندھ انفارمیشن کمیشن کو سونپنے کا قانونی طور پر سو فیصد پابند ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2008 میں درج کی گئی اصل ایف آئی آر میں سارا ملبہ اور ذمہ داری مارکیٹ یونین کے صدر تنویر پاشتا پر ڈال کر اصل کرداروں کو صاف بچا لیا گیا، اور اب حالت یہ ہے کہ عدالت میں تین بار چالان جمع ہونے کے باوجود عدالتی تحقیقاتی رپورٹ کو تاحال دبا کر رکھا گیا ہے اور اسے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا رہا۔
فاروق ستار نے سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے خود ہی عدالتی انکوائری کمیشن قائم کیا تھا، مگر اب رپورٹ کے اندر موجود کڑوے حقائق اور سچائی کا سامنا کرنے سے بری طرح گریز کیا جا رہا ہے کیونکہ بظاہر اس رپورٹ میں ایسے ہوشربا انکشافات شامل ہیں جن کی وجہ سے پوری سندھ حکومت پر سانپ سونگھ گیا ہے اور اس نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ سندھ انفارمیشن کمیشن قانون کے تحت کسی بھی کیس کا فیصلہ زیادہ سے زیادہ 45 دنوں کے اندر کرنے کا پابند ہے، جبکہ سندھ حکومت خود اپنی ‘انسانی حقوق پالیسی 2023’ کے تحت بھی ایسی رپورٹس کو عوام کے سامنے لانے کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا کہ صوبائی حکومت نے اس کیس کے تفتیشی افسر (IO) کو بھی دھمکیاں دے کر یا دباؤ ڈال کر کیس مزید آگے بڑھانے سے روک دیا ہے، اسی لیے اب 16 جولائی کی آخری مہلت کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔
