A damaged and flooded road in Karachi during monsoon displaying poor city infrastructure.

کراچی والے تمغوں کے حقدار ہیں؛ ‘گلوبل لائیویبلٹی انڈیکس’ میں شہرِ قائد بدترین قرار، عائشہ عمر پھٹ پڑیں!

کراچی (ویب ڈیسک) 12 جولائی 2026

پاکستان کی مایہ ناز اور بے باک اداکارہ، ماڈل و گلوکارہ عائشہ عمر نے کراچی کے انتہائی ناقص بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور دگرگوں صورتِ حال پر شدید تشویش اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شہر کے رہائشی یہاں کے کٹھن حالات کا مردانگی سے مقابلہ کرنے پر باقاعدہ تمغوں کے حقدار ہیں۔ یہ ردعمل برطانوی تحقیقی ادارے ’دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ‘ (EIU) کی جانب سے جاری کردہ سال 2026 کے ’گلوبل لائیویبلٹی انڈیکس‘ (عالمی رہائشی انڈیکس) کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں رہائش، صحت، اور تعلیم کے اعتبار سے دنیا کے 173 بدترین شہروں کی فہرست میں روشنیوں کے شہر کراچی کو بدقسمتی سے 170 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اس شرمناک عالمی رینکنگ پر عائشہ عمر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے لکھا کہ “ہمیں اس رپورٹ پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ زمینی حقائق اس سے بھی تلخ ہیں”۔

ہم کراچی والے تمغوں کے حقدار ہیں: عائشہ عمر

عائشہ عمر نے کراچی کی موجودہ بدترین حالت زار کا تفصیلی نقشہ کھینچتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ شہرِ قائد کے عوام روزانہ جس ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتے ہیں، اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے تیکھے انداز میں لکھا کہ ٹوٹی پھوٹی، گڑھوں سے بھری اور گرد و غبار سے آلودہ سڑکوں پر سفر کرنا، بدترین ٹریفک جام میں گھنٹوں زندگی کے قیمتی لمحے ضائع کرنا، شدید گرمی کے باوجود گھروں میں گیس اور بجلی کی انتہائی محدود فراہمی کا عذاب جھیلنا، اور سڑک پر نکلتے ہی ہر وقت موبائل یا نقدی چھین لیے جانے کا ہولناک خوف دل میں بسائے رکھنا یہاں کا معمول بن چکا ہے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان تمام تر مصائب اور بنیادی حقوق سے محرومی کے باوجود کراچی کے غیور شہری دن رات سخت محنت کرتے ہیں، حکومت کو اپنے تمام ٹیکسز ایمانداری سے ادا کرتے ہیں اور ملک کی معیشت کا سب سے بڑا پہیہ چلاتے ہیں، لیکن بدلے میں انہیں صرف مایوسی ملتی ہے۔

اپنے پیغام کے آخر میں اداکارہ نے کراچی کے شہریوں کی ہمت کو داد دیتے ہوئے لکھا کہ مسلسل بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کی وجہ سے یہاں کا ہر پبلک اور پرائیویٹ فرد ہر وقت ‘لڑو یا بھاگو’ (Flight-or-Fight) والی شدید نفسیاتی و اعصابی کیفیت میں مبتلا رہنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتنے سنگین اور نامساعد حالات کے باوجود جو لوگ اس شہر کو چھوڑ کر نہیں گئے اور روزانہ جرات کے ساتھ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ انہیں قومی سطح پر انعامات اور تمغوں سے نوازے۔ واضح رہے کہ اس انڈیکس کے آنے کے بعد جہاں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، وہیں سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے اور ایم کیو ایم نے اس بدترین رینکنگ کا ذمہ دار براہِ راست سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو قرار دیا ہے، جبکہ عائشہ عمر اس سے قبل بھی پاکستان میں خواتین کی عدم سیکیورٹی کے باعث ملک چھوڑنے کا اشارہ دے چکی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں