Pakistani female Taekwondo players Tayyaba Ashraf and Sunbal Fatima training hard during a practice session.

تائیکوانڈو کی گولڈ میڈلسٹ پاکستانی بیٹیاں اسپانسرز کی متلاشی؛ فنڈز کی کمی آڑے آ گئی، سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل!

لاہور (ویب ڈیسک) 12 جولائی 2026

پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والی تائیکوانڈو کی دو مایہ ناز اور باصلاحیت خواتین کھلاڑی، طیبہ اشرف اور سنبل فاطمہ، ایک بار پھر بین الاقوامی افق پر گرین شرٹ کی نمائندگی کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس بار ان کا سب سے بڑا مقابلہ کسی حریف کھلاڑی سے نہیں بلکہ فنڈز کی شدید عدم دستیابی سے ہے۔ گزشتہ برس تھائی لینڈ میں منعقدہ تائیکوانڈو کے بین الاقوامی مقابلے میں پاکستان کے لیے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 5 گولڈ اور ایک سلور میڈل جیتنے والی یہ مایہ ناز ایتھلیٹس اس سال اسی باوقار ایونٹ میں دوبارہ شرکت کرنے کے لیے اسپانسرز (Sponsors) کی شدید متلاشی ہیں اور انہوں نے مجبوراً سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے۔

طیبہ اشرف اور سنبل فاطمہ، جو طویل عرصے سے ایک ساتھ سخت ٹریننگ کر رہی ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ‘اسپورٹ چیمپئن’ کے عنوان سے ایک مہم شروع کی ہے تاکہ مخیر حضرات یا کھیلوں کی تنظیمیں ان کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھا سکیں۔ دونوں کھلاڑیوں نے انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ 31 جولائی 2026 سے تھائی لینڈ میں شروع ہونے والے انٹرنیشنل ایونٹ کے لیے ان کی تیاری سو فیصد مکمل ہے اور وہ ملک کے لیے دوبارہ سونا جیتنے کا عزم رکھتی ہیں، لیکن تاحال سرکاری یا نجی سطح پر فنڈز کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ فنڈز کی اسی تنگی کے باعث وہ اوپن ایونٹ کی تمام کیٹیگریز کے بجائے صرف چند محدود کیٹیگریز میں ہی اپنی رجسٹریشن کرانے پر مجبور ہوئی ہیں کیونکہ موجودہ دور میں کھیلوں کے لیے ادھار ملنا بھی ناممکن ہو چکا ہے۔

انٹرنیشنل چیمپیئن شپ کے لیے روانگی میں محض چند دن باقی رہ جانے پر ان قومی ہیروز نے حکومتِ پاکستان، اسپورٹس بورڈ اور ملک کے بڑے کارپوریٹ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی سرپرستی کریں تاکہ پاکستان کا پرچم ایک بار پھر تھائی لینڈ کی دھرتی پر لہرایا جا سکے۔ یاد رہے کہ پچھلے سال کے ایونٹ میں یہ دونوں ہی وہ واحد پاکستانی خواتین مارشل آرٹسٹس تھیں جنہوں نے فائنل راؤنڈز تک رسائی حاصل کر کے میڈلز اپنے نام کیے تھے، اور اب اگر انہیں بروقت مالی مدد نہ ملی تو پاکستان ایک یقینی عالمی اعزاز سے محروم ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں