کراچی (اسٹاف رپورٹر) 9 جولائی 2026
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کراچی میں انٹیلی جنس بیسڈ ہائی پروفائل آپریشن کرتے ہوئے کالعدم لشکرِ جھنگوی (عطاالرحمٰن عرف نعیم بخاری گروپ) کے دو انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق، گرفتار کیے گئے دہشت گرد محمد جمیل انصاری عرف شعیب چاچا اور حماد انصاری عرف ببلو، سی ٹی ڈی کی آفیشل ‘ریڈ بک’ کے ایڈیشن نمبر 10 میں شامل تھے، جو سال 2015 اور 2016 سے روپوش تھے۔ یہ لٹیرے اور سفاک عناصر شہرِ قائد میں ایک بار پھر اپنا خطرناک سلیپر سیل سرگرم کرنے اور دہشت گردی کا نیا نیٹ ورک منظم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ سی ٹی ڈی آپریشنز کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں دھر لیا۔
تفتیشی حکام نے ملزمان کے بھیانک ماضی کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار محمد جمیل انصاری عرف شعیب چاچا نے افغانستان سے آئی ای ڈی (IED) بم اور الیکٹرانک سرکٹ بنانے کی باقاعدہ عسکری تربیت حاصل کر رکھی تھی اور وہ نعیم بخاری کا دستِ راست سمجھا جاتا تھا۔ دوسری جانب، گرفتار دہشت گرد حماد علی انصاری عرف ببلو، سی ٹی ڈی کے مشہور شہید افسر چوہدری اسلم کے گھر پر خودکش حملے میں ملوث ہلاک دہشت گرد دلدار عرف چاچا، اور بدنامِ زمانہ عاصم کیپری و اسحاق بوبی کا قریبی ساتھی ہے۔ ملزم حماد سال 2017 میں پولیس مقابلے کے مقدمہ نمبر 38 میں بھی مفرور تھا۔
ترجمان سی ٹی ڈی نے انکشاف کیا کہ ان دہشت گردوں کا گینگ کراچی کی تاریخ کے بڑے ترین حملوں میں ملوث رہا ہے۔ ان ملزمان نے سال 2013 میں کورنگی 5 نمبر میں رینجرز کی موبائل پر آئی ای ڈی بلاک سے حملہ کیا جس کا مقدمہ نمبر 152 عوامی کالونی تھانے میں درج ہے، جبکہ سال 2014 میں کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہولناک حملے کا مقدمہ نمبر 87 ایئرپورٹ تھانے میں درج ہے۔ اس کے علاوہ یہ گینگ سال 2015 میں کورنگی میں ہی ریپڈ ریسپانس فورس (RRF) کے ٹرک پر موٹرسائیکل آئی ای ڈی حملے میں بھی ملوث تھا جس کا مقدمہ نمبر 296 تھانہ ابراہیم حیدری میں درج ہے۔ بڑے ہائی پروفائل کیسز کے حوالے سے بتایا گیا کہ نعیم بخاری نے ملزم جمیل چاچا سے ایک مخصوص اور جدید ‘کلنگ بیگ’ تیار کروایا تھا، جس کی خاصیت یہ تھی کہ اس کے اندر سے فائرنگ کرنے کے بعد گولیوں کے خول بیگ میں ہی محفوظ رہ جاتے تھے تاکہ فرانزک ٹیم کو کوئی ثبوت نہ مل سکے۔ اسی مخصوص تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے معروف قوال امجد صابری شہید اور صدر پارکنگ پلازا کے پاس ملٹری پولیس (MP) کے اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
سی ٹی ڈی نے کامیاب چھاپے کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے ہائی ایکسپلوسیو بارودی مواد کے 4 سلیب، 5 ڈیٹونیٹرز، 10 میٹر طویل پرائما کارڈ، ریموٹ کنٹرول معہ ڈیوائسز اور 5 عدد جدید پستول کیچرز برآمد کر لیے ہیں۔ ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت 2 الگ الگ مقدمات درج کر کے جائنٹ انٹروگیشن ٹیم (JIT) تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ ان کے دیگر روپوش ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔
