کراچی (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
پاکستان کے سیمنٹ مینوفیکچررز نے گزشتہ چار سال انتہائی تلخ اور سبق آموز ماحول میں گزارے ہیں جہاں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے توسیعی منصوبوں کے باوجود پیداوار اور فروخت کا توازن بری طرح بگڑ گیا تھا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے آخری سالوں میں شروع ہونے والے سرمایہ کاری کے چکر نے انڈسٹری میں لاکھوں ٹن کی نئی پیداواری صلاحیت تو شامل کر دی، لیکن اس کے فوراً بعد معاشی جمود، بلند ترین شرحِ سود، پرائیویٹ کنسٹرکشن کی بندش، اور کوئلے کی عالمی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے کمپنیوں کو پلانٹس بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ تاہم، معروف سرمایہ کاری بینک ‘عارف حبیب لمیٹڈ’ (AHL) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اب یہ مایوس کن صورتحال یکسر تبدیل ہونے جا رہی ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے تجزیہ کاروں کی جانب سے 8 جولائی کو جاری کردہ ایک خصوصی ریسرچ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کا سیمنٹ سیکٹر اب باقاعدہ طور پر اپنے اگلے بڑے ‘اپ سائیکل’ (Upcycle) یعنی بوم میں داخل ہو رہا ہے۔ ماہرین کی اس زبردست امید پرستی کی وجہ تعمیراتی سرگرمیوں میں کوئی ایک اچانک تبدیلی نہیں، بلکہ مارکیٹ میں بیک وقت ہونے والی 5 بڑی اور مثبت پیش رفتیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اب ملک میں سیمنٹ کی مقامی مانگ میں تیزی سے بحالی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ کمپنیوں کی جانب سے فیکٹریوں کی توسیع کا نیا دور بھی اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جس سے مارکیٹ میں سپلائی مستحکم ہوگی۔
بینک کاروں کا کہنا ہے کہ اس بوم کے پیچھے انڈسٹری کی سب سے بڑی طاقت ‘صنعتی استحکام’ (Consolidation) ہے، جہاں بڑے سیمنٹ مینوفیکچررز اب مارکیٹ میں اپنے چھوٹے حریفوں اور فیکٹریوں کو خرید رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومتِ پاکستان کے حالیہ وفاقی بجٹ میں رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کے لیے کئی سازگار اقدامات شامل کیے گئے ہیں جنہوں نے بلڈرز کا اعتماد بحال کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنوبی زون (سندھ اور بلوچستان) کے سیمنٹ پروڈیوسرز اب اپنے اضافی اسٹاک کو عالمی مارکیٹ میں ایکسپورٹ (درآمد) کر کے بھاری منافع کما رہے ہیں، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں سیمنٹ کمپنیوں کے شیئرز سرمایہ کاروں کی پہلی پسند بن چکے ہیں۔
