Chairman Senate Syed Yousaf Raza Gilani addressing the Sufi Art Exhibition in Islamabad

رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے صوفیانہ اقدار کو عام کرنے کی ضرورت ہے: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) — 16 جولائی 2026

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور نظریاتی تقسیم کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے امیر صوفیانہ ورثے کو عام کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواداری، مکالمے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے صوفیائے کرام کی تعلیمات آج کے دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

یہ بات انہوں نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) اسلام آباد میں ممتاز فنکاروں “رومی اور ایمن” کی صوفیانہ آرٹ نمائش “تصوف اور ثقافت” (Sufism & Culture) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چیئرمین سینیٹ نے پی این سی اے کو اس خوبصورت نمائش کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور فنکاروں کے کام کو سراہا، جنہوں نے اپنے فن پاروں کے ذریعے پاکستان کی روحانی اور ثقافتی روایات کو شاندار طریقے سے اجاگر کیا ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کے امیر ترین صوفیانہ ورثے اور روایات کا امین ہے، جس نے صدیوں سے ہماری شاعری، موسیقی، فنِ تعمیر، زبانوں اور لوک داستانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تصوف کا ابدی پیغام بنیادی طور پر احترامِ انسانیت، ہمدردی اور پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے، جن کی اہمیت موجودہ دور میں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کا مزید کہنا تھا کہ صوفی بزرگوں کی تعلیمات انسانیت کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ “احترام” ہمیشہ نفرت پر غالب رہتا ہے، “مکالمہ” محاذ آرائی سے زیادہ پائیدار ہوتا ہے، اور “پرامن بقائے باہمی” دوسروں کو خارج کرنے کے بجائے زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان لازوال اصولوں کو اپنا کر ہی ہم ایک پرامن، روادار اور مضبوط معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو ان روحانی اقدار سے جوڑنے کے لیے ایسے ثقافتی پروگراموں کو ناگزیر قرار دیا۔ اس تقریب میں سفارت کاروں، فنکاروں، ادیبوں اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں