Cinematic AI generated humanoid visual concept highlighting the revolution of artificial intelligence in film making

پاکستانی نوجوان کی اے آئی فلم کا انٹرنیٹ پر دھماکا، کروڑوں کی کمائی

پاکستان کے تاریخی اور مردم خیز خطے لیہ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان فلم میکر زاہد اقبال نے ڈیجیٹل تخلیق اور جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے، جہاں ان کی مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی مدد سے تیار کردہ مختصر فلم نے یوٹیوب سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ 28 منٹ کے طویل اور دلچسپ دورانیے پر مشتمل اس اے آئی شارٹ مووی کا نام ’دی مدرز مونسٹر‘ ہے، جس کی ریلیز کے بعد سے ہی ٹیکنالوجی، سنیما اور اینیمیشن کے شائقین اس کے سحر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ روایتی اداکاروں، کیمرہ عملے اور بھاری بجٹ والے پروڈکشن اسٹوڈیوز کے بغیر مکمل طور پر جدید اے آئی الگورتھمز اور تھری ڈی ویژول ٹولز کے ذریعے بنائی گئی اس انوکھی تخلیق نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی نوجوان محدود وسائل کے باوجود عالمی معیار کا تخلیقی کونٹینٹ تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا پر گردش کرنے والے حیران کن اعداد و شمار کے مطابق زاہد اقبال کی اس مختصر فلم نے مبینہ طور پر یوٹیوب پر 50 ملین (5 کروڑ) سے زائد ویوز حاصل کر کے انٹرنیٹ پر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جبکہ اس غیر معمولی پذیرائی کے نتیجے میں ان کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد بھی دیکھتے ہی دیکھتے ایک لاکھ کا ہندسہ عبور کر کے سلور پلے بٹن کے معیار پر پہنچ چکی ہے۔ فلم کی شاندار کامیابی کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی زور و شور سے گردش کر رہی ہیں کہ نوجوان کریئٹر نے یوٹیوب مونیٹائزیشن، گلوبل ویورشپ اور اشتہارات کی مد میں 5 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر آمدنی حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ اتنی بڑی آمدنی اور منافع کے دعووں کی آزادانہ طور پر حتمی تصدیق سامنے نہیں آ سکی ہے، لیکن عالمی ٹیک مبصرین کا ماننا ہے کہ ملینز کی تعداد میں بین الاقوامی ٹریفک کسی بھی کونٹینٹ کریئٹر کے لیے غیر معمولی اور لائف چینجنگ آمدنی کا مستند ذریعہ بن جاتی ہے۔

زاہد اقبال کی اس تاریخی پیش رفت نے جنوبی پنجاب کے دور دراز اضلاع سمیت پورے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل دنیا میں کریئر کے شاندار اور انوکھے مواقع کھول دیے ہیں۔ روایتی فلم انڈسٹری کی پیچیدگیوں، مہنگے آلات اور بڑے سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر رہنے کے بجائے اب ہر باصلاحیت نوجوان صرف ایک اچھے کمپیوٹر اور اے آئی اسکرپٹ جنریٹر، امیج رینڈرنگ اور اینیمیشن سافٹ ویئرز کی مدد سے اپنے تخیل کو زندہ حقیقت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ دنیا بھر میں اے آئی فلم میکنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والا دور سمارٹ ورک اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کا ہے، اور پاکستانی یوتھ اگر جدید ٹولز کا درست استعمال سیکھ لے تو نہ صرف وہ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت و تخلیقی چہرہ روشناس کرا سکتے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں