پاکستان بھر کے پٹرول پمپ مالکان اور ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی جانب سے نافذ کردہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعافین کی پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جمعرات کی صبح چھ بجے سے چوبیس گھنٹے کی ملک گیر مکمل ہڑتال کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی مکمل ناکامی اور کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ پٹرولیم ڈیلرز کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہر روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل سے نہ صرف مالیاتی بے یقینی بڑھ رہی ہے بلکہ پمپ مالکان کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اولڈ آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور پبلک و گڈز ٹرانسپورٹرز کی تنظیمی قیادت نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے امشب سے مزدا گاڑیوں اور عوامی سواریوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث ملک گیر سطح پر ایندھن کا بحران اور نقل و حمل کے مفلوج ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
حکومتی پالیسی کے مطابق اوگرا عالمی مارکیٹ کے سات دنوں کے اوسط ریٹس کو بنیاد بنا کر شفافیت لانے کے مقصد سے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی سابق ڈپو قیمتیں جاری کر رہا ہے جس میں اختتامِ ہفتہ یعنی ہفتہ اور اتوار کے ایام کے لیے جمعہ کے ریٹ نافذ العمل رہتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام سے عالمی منڈی کی تبدیلیوں کے اثرات فوری طور پر صارفین تک پہنچیں گے، تاہم بزنس کمیونٹی، ٹرانسپورٹرز اور ڈیلرز اس طریقہ کار سے معاشی نقصان کا شاکی ہیں۔ اس تنازع کے بعد معاملے نے قانونی اور عوامی رخ بھی اختیار کر لیا ہے کیونکہ لاہور ہائیکورٹ میں حکومت کے اس روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتیں مقرر کرنے کے فریم ورک کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام کو نہیں مل رہا۔ دوسری جانب پاکستان بزنس فورم نے ڈیلرز کی اس ہڑتال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑتال ملکی معیشت اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے اور موجودہ حالات میں ڈیلرز مارجن میں مزید اضافے کا مطالبات غیر مناسب ہے۔
اس ملک گیر ہڑتال اور ایندھن کی فراہمی میں متوقع رکاوٹ کے نتیجے میں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شہریوں کی شدید پریشانی کے پیشِ نظر پٹرول پمپوں کے باہر طویل قطاریں لگنے کا خدشہ ہے جبکہ بزنس فورم نے حکومت سے پٹرولیم لیوی ایک ماہ کے لیے معطل کرنے اور قیمتوں کے اس نظام پر ازسرِنو غور کا مطالبات کیا ہے۔ پٹرولیم ڈیلرز نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک روزانہ قیمتیں بدلے کا فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا اور پائیدار حل نہیں نکالا جاتا، وہ اپنے پٹرول پمپ کھولنے پر تیار نہیں ہوں گے۔ ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشنز نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ڈیزل اور پٹرول کے ریٹ روزانہ تبدیل ہونے کی وجہ سے مال برداری کے کرائے طے کرنا اور کاروباری حساب کتاب رکھنا ناممکن ہو چکا ہے جس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومتی اعلیٰ حکام عوام کو اس بڑے ریلیف اور سہولت کی فراہمی کے لیے ہنگامی سطح پر مذاکرات کا نیا دور شروع کرتے ہیں یا ملک بھر میں پہیہ جام کی صورتحال برقرار رہتی ہے۔
