تحریر: لاریب وزیر
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ایک طویل عرصے سے خود کو مذہبی رہنما اور عوامی احتساب کا علمبردار قرار دیتے آئے ہیں۔ تاہم، ان کے اور ان کے خاندان کے اثاثوں اور مالی معاملات پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ دسمبر 2020 میں قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے انہیں آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں 26 نکاتی سوالنامہ بھیجا تھا۔ اس میں ان سے اور ان کے اہل خانہ سے آمدنی، جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس اور وراثتی اثاثوں کی تفصیلات طلب کی گئیں۔ نیب نے خاص طور پر ڈیرہ اسماعیل خان میں 64 کنال اور ان کے بیٹے کے نام ملتان کینٹ میں 5 مرلہ زمین کے حصول کے بارے میں بھی استفسار کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ستمبر 2020 میں بھی نیب انہیں طلب کر چکا تھا۔
مختلف ذرائع کے مطابق، مولانا فضل الرحمان کے پاس متعدد شہروں میں جائیدادیں موجود ہیں۔ ان میں ڈیرہ اسماعیل خان میں دو مکانات اور 5 ایکڑ زرعی زمین، اسلام آباد کے سیکٹر ایف-8 میں ایک بنگلہ، کراچی اور کوئٹہ میں تجارتی جائیدادیں اور دبئی میں ایک اپارٹمنٹ شامل ہے۔ شورکوٹ میں بھی ان کے پاس مبینہ طور پر ایک مکان، مدرسہ اور 5 ایکڑ زمین ہے۔ مزید برآں، ایک سابق وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا تھا کہ مولانا نے اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں اپنے فرنٹ مین (بے نامی داروں) کے نام پر بنا رکھی ہیں اور قطر سمیت متحدہ عرب امارات میں بھی ان کے اثاثے ہیں۔ ان کی گاڑیوں کے حوالے سے بھی تضاد پایا جاتا ہے؛ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں انہوں نے کسی گاڑی کی ملکیت ظاہر نہیں کی، جبکہ عملاً وہ مہنگی ترین گاڑیوں میں سفر کرتے نظر آتے ہیں۔
الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں میں ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع ان کے بنگلے کی مالیت محض 25 لاکھ روپے درج ہے، حالانکہ ماہرین کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو 30 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ اسی طرح عبدل خیل میں ان کی ایک رہائش گاہ کی قیمت 15 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے، جبکہ اس کی اصل مالیت 5 کروڑ روپے سے متجاوز بتائی جاتی ہے۔ ایک اور انکشاف کے مطابق، 2006 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں 6,072 کنال سرکاری زرعی اراضی محض 200 روپے فی کنال کے عوض 10 سال کے لیے مولانا فضل الرحمان اور ان کے قریبی ساتھیوں کو لیز پر دی گئی۔ مبینہ طور پر اس معاہدے میں ان کے بھائی لطف الرحمان کے سیکرٹری کو بھی حصہ دار بنایا گیا۔
ایک سابق وزیر کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں مولانا فضل الرحمان نے 750 حاجیوں کا کوٹہ حاصل کر کے اسے مختلف ٹریول ایجنٹوں کو کمیشن پر فروخت کیا۔ الزام کے مطابق، یہ کوٹہ ان کے فرنٹ مین عبداللہ اور ابرار شاہ کو الاٹ کیا گیا تھا جس کے ذریعے مبینہ طور پر 18 کروڑ روپے سے زائد کی غیر قانونی رقم کمائی گئی۔
دسمبر 2020 میں موجودہ وزیر اعلیٰ (اس وقت کے وفاقی وزیر) علی امین گنڈاپور نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمان پر برطانوی خفیہ ایجنسی ‘ایم آئی 6’ کے ساتھ رابطوں کا سنگین الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا نے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی اور بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر ریاستی اداروں کے خلاف سازشیں کیں۔ گنڈاپور نے مطالبہ کیا تھا کہ مولانا عوام کو بتائیں کہ انہوں نے کس حیثیت میں برطانوی ایجنسی سے ملاقاتیں کیں۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں؛ اکوڑہ خٹک میں واقع مشہور مدرسہ ‘دارالعلوم حقانیہ’ کا تنظیمی تعلق مولانا فضل الرحمان کی جماعت سے نہیں بلکہ مرحوم مولانا سمیع الحق (جنہیں مغربی میڈیا میں “طالبان کا باپ” کہا جاتا تھا) کی جماعت جے یو آئی (س) سے ہے۔
یہ تمام انکشافات چند بنیادی سوالات کو جنم دیتے ہیں: کیا مولانا فضل الرحمان اور ان کا خاندان اپنے اثاثے اور ذرائع آمدن قانون کے مطابق مکمل طور پر ظاہر کر رہے ہیں؟ کیا ان کے ٹیکس گوشوارے ان کے ظاہری طرز زندگی اور اثاثوں سے مطابقت رکھتے ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ جو شخص دوسروں کے کڑے احتساب کا مطالبہ کرتا ہے، کیا وہ خود اس معیار پر پورا اترتا ہے؟ اگرچہ ان الزامات کی حتمی تحقیقات اور قانونی فیصلہ کرنا عدالتوں کا کام ہے، لیکن ایک جمہوری معاشرے میں شفافیت کا تقاضا اور عوام کی بڑھتی ہوئی آگاہی ایک انتہائی خوش آئند عمل ہے۔
