Governor Sindh Speech HEC Research Event

تحقیق ختم ہو جائے تو ذہنی و معاشی غلامی کا دور شروع ہو جاتا ہے؛ این ای ڈی یونیورسٹی کی تقریب میں گورنر سندھ کا فکر انگیز خطاب!

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں ممتاز پاکستانی محققین اور سائنسدانوں کی خدمات کے اعتراف میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کی اہمیت پر زبردست روشنی ڈالی گئی۔ تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے اس حقیقت پر زور دیا کہ جب کسی بھی معاشرے سے تحقیق اور سائنسی سوچ ختم ہو جاتی ہے تو وہاں ذہنی اور معاشی غلامی کا سیاہ دور شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے محققین کو قوم کے “گمنام سپاہی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائنسدانوں اور محققین کی کاوشوں کی بدولت ہی ہم نے معرکہِ حق جیتا اور خود سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج امریکہ سمیت دنیا کی تمام بڑی معیشتیں اور دفاعی طاقتیں سائنس دانوں کی ایجادات کے مرہونِ منت ہیں، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف دور کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے پاکستان میں ایٹمی طاقت اور فائبر آپٹک نیٹ ورکنگ جیسے سائنسی میل پتھروں کا ذکر کیا۔

تقریب سے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی نے محدود وسائل کے باوجود ریسرچ کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس کے تحت اس سال 149 ریسرچ پروجیکٹس منظور کیے گئے ہیں جبکہ ملک کی 62 ہزار فیکلٹی میں سے 40 ہزار پی ایچ ڈیز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) نے تعلیم اور تحقیق کا ماحول بدل دیا ہے، جہاں اب لیبز کی جگہ دفتر میں بیٹھ کر اے آئی سے کام لیا جا رہا ہے، اسی لیے اساتذہ کو اپنے طلباء کی مہارتوں کو جدید معیار کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے جامعات کو فنڈز کی فراہمی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اسماعیل راہو نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے بغیر ہم محض لکیر کے فقیر بن کر رہ جاتے ہیں؛ ایک دور تھا جب مشرق میں سائنسی تحقیقات ہوتی تھیں اور مغرب ان کی تقلید کرتا تھا لیکن آج ہم مغرب کی تقلید پر مجبور ہیں۔

اس پروقار تقریب میں ملک بھر کی جامعات کے ممتاز محققین کو ان کی گراں قدر خدمات پر تعارفی اسناد اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ایچ ای سی کے رکن اکیڈمک ڈویژن ڈاکٹر حبیب بخاری، ایڈوائزر ریسرچ محمد علی ناصر اور دیگر مقررین نے بھی سائنسی تحقیق کے معاشی و سماجی اثرات پر مفصل گفتگو کی۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نئی نسل کو جدید اسکلز فراہم کیے بغیر اور لیبارٹریز کی تحقیق کو عملی معیشت کا حصہ بنائے بغیر پاکستان عالمی سطح پر اپنا لوہا نہیں منوا سکتا۔ تقریب کے اختتام پر محققین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں سائنسی کلچر اور تحقیقی ماحول کو ہر ممکن فروغ دیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ اور تابناک بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں