پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی ڈویژن کے نائب صدر نوید عالم صدیقی نے شہرِ قائد میں پینے کے پانی کے شدید اور سنگین ہوتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بڑا انسانی مسئلہ قرار دیا ہے۔ اپنے جاری کردہ ایک مذمتی بیان میں نوید عالم صدیقی نے سندھ حکومت اور واٹر بورڈ کی بدانتظامی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لاکھوں شہری پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے بے رحم ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں اور لائنوں سے پانی غائب کر کے عوام کو مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کے باعث ٹینکر مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی روزمرہ زندگی فلج ہو کر رہ گئی ہے اور لوگ صاف پانی کی بجائے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جو ان کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے نیو حب کینال منصوبے کی عدم فعالی پر سندھ حکومت کی نالائقی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے بجٹ اور خطیر فنڈز خرچ ہونے کے باوجود یہ اہم ترین منصوبہ آج تک فعال نہیں ہو سکا جو کہ کرپشن اور کمیشن ہضم کرنے کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ سندھ عوام کو جواب دے کہ اربوں روپے کا نیو حب کینال منصوبہ آج تک کیوں مکمل یا چالو نہیں ہو سکا؟ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لیے بنائے جانے والے واٹر پروجیکٹس عوام کی سہولت کے بجائے حکمرانوں کی جیبیں بھرنے کی نذر ہو جاتے ہیں، اور پیپلزپارٹی کی طویل حکمرانی نے سندھ بالخصوص کراچی کے تمام بنیادی اداروں اور ڈھانچے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
نوید عالم صدیقی نے مزید کہا کہ کراچی ملک کا معاشی اور اقتصادی مرکز ہونے کے باوجود تمام تر بنیادی انسانی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے جو کہ سندھ حکومت کا متعصبانہ رویہ ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، نیو حب کینال منصوبے سمیت تمام واٹر پروجیکٹس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ٹینکر مافیا کی سرپرستی بند کر کے شہریوں کو نلکوں کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی کا مستقل حل نکالا جائے۔ واضح رہے کہ یہ بیان میڈیا سیل پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کی جانب سے پریس کو جاری کیا گیا۔
