کراچی کا امن پورے ملک کی معیشت سے جڑا ہوا ہے، شہر کو غیر محفوظ نہیں ہونے دیں گے، فوزیہ صدیقی
بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے، فوزیہ صدیقی
امن و امان کی بحالی کے بغیر سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کا فروغ ممکن نہیں، فوزیہ صدیقی
کراچی: پاکستان تحریک انصاف) کراچی کی ترجمان و سیکریٹری انفارمیشن کراچی ڈویزن فوزیہ صدیقی نے کراچی میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم، ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات شہریوں کے لیے شدید خوف و ہراس کا باعث بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں ایک بار پھر بدامنی پھیلانے کی سازشیں نظر آ رہی ہیں، جنہیں ہر صورت ناکام بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا امن صرف شہر کے عوام ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ “کراچی چلتا ہے تو پاکستان چلتا ہے”۔ شہر کے امن پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں، صنعت کاروں اور بلڈرز کو بھتہ کی پرچیاں ملنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور اس سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
فوزیہ صدیقی نے مطالبہ کیا کہ بھتہ خور اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری، بلاامتیاز اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کریک ڈاؤن کیا جائے، پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے اور اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر، مستقل اور نتیجہ خیز حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین آئینی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ کراچی کے شہری آج خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اغوا برائے تاوان، موبائل اور گاڑیاں چھیننے کی بڑھتی ہوئی وارداتیں انتہائی تشویشناک ہیں، جبکہ جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی سرپرستی دینے کا سلسلہ بھی فوری بند کیا جانا چاہیے۔
فوزیہ صدیقی نے کہا کہ کراچی کے تاجر، صنعت کار اور عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، جبکہ امن و امان کی بحالی کے بغیر سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے فروغ کا تصور بھی ممکن نہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے اور کراچی کو پرامن، محفوظ اور جرائم سے پاک بنانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے۔
