پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعلیٰ عمران خان کی طویل قید اور مبینہ ناانصافیوں کے خلاف ایک بار پھر ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے اور سڑکوں پر نکلنے کا حتمی و بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ پشاور کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور مرکزی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ 5 اگست کو بانی چیئرمین کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم پشاور میں ایک تاریخی و عظیم الشان جلسہ منعقد کیا جائے گا جبکہ ملک بھر میں پرامن ریلیاں نکالی جائیں گی۔ پارٹی قیادت کے مطابق آئندہ کے سخت اور حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان اتحادی جماعتوں سے مکمل مشاورت کے بعد پشاور جلسے کے دوران ہی کیا جائے گا تاکہ عمران خان کی رہائی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے تحریک کو فیصلہ کن موڑ پر لایا جا سکے۔
پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اسلام آباد احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ 24 نومبر سے 26 نومبر کے پرامن احتجاج کے دوران ناصرف ان کے بے گناہ کارکنوں پر مبینہ فائرنگ اور تشدد کیا گیا بلکہ کئی جانیں گئیں، مگر اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں یا حکومت نے مقدمہ درج کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی نے عدلیہ سے رجوع کر کے قانونی اور جمہوری راستہ اپنانے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم عدالتوں نے وکلاء کے دلائل سنے بغیر ہی ان کی درخواستیں مسترد کر دیں جو کہ صاف شفاف انصاف کا قتل ہے اور جب معاشرے میں انصاف کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو ملکی و سماجی ڈھانچہ مکمل تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی چیئرمین گزشتہ سات ماہ سے قیدِ تنہائی کا شکار ہیں اور ان کے بنیادی انسانی و قانونی حقوق تک سلب کر لیے گئے ہیں۔
صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی سر زمین پر تمام سیاسی جماعتوں کو مکمل جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کی آزادی حاصل ہے، لہٰذا پشاور کے جلسے سے ملک بھر کو جمہوریت اور عوامی طاقت کا ایک نیا پیغام دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے اور پی ٹی آئی بانی چیئرمین کی بلا تاخیر اور بالاشرط رہائی تک اپنی سچی جدوجہد کو ہر صورت جاری رکھے گی۔ جلسے کے منتظمین نے تمام کارکنان اور شائقین سے 5 اگست کے جلسے کو تاریخی بنانے کی اپیل کی ہے جبکہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں سیاسی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی سمندر کو اب مزید طاقت یا ظلم کے زور پر نہیں روکا جا سکتا۔
